Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
269 - 857
(20)۔۔۔۔۔۔رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''بغض سے بچتے رہو کیونکہ یہ دین کومونڈنے(یعنی برباد کرنے)والا ہے۔''
  (جامع الاحادیث للسیوطی،قسم الاقوال الحدیث:۹۵۱۳،ج۳،ص۴۱۹)
(21)۔۔۔۔۔۔حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اے وہ لوگو جو زبان سے تو اسلام لے آئے ہو مگرتمہارے دل میں ابھی تک ایمان داخل نہیں ہوا! مسلمانوں کو برا مت کہو اور نہ ہی ان کے پوشیدہ معاملات کی تلاش میں رہا کرو کیونکہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے پوشیدہ معاملہ میں تجسس کرے تو اللہ عزوجل اس کا پردہ فاش کر کے اس کے پوشیدہ راز کو ظاہر فرما ديتا ہے اگرچہ وہ اپنے گھر میں پوشیدہ ہو۔''
(المعجم الاوسط،الحدیث:۲۹۳۶،ج۲،ص۱۷۸،تتبعوا بدلہ'' تطلبوا'')
(22)۔۔۔۔۔۔اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ،، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''اے وہ لوگو جو زبانوں سے توایمان لے آئے ہو مگر تمہارے دل میں ابھی تک ایمان داخل نہیں ہوا! مسلمانوں کوایذاء مت دو، اور نہ ان کے عیوب کو تلاش کرو کیونکہ جواپنے مسلمان بھائی کاعیب تلاش کریگااللہ عزوجل اس کاعیب ظاہر فرما دے گا اور اللہ عزوجل جس کاعیب ظاہر فرما دے تو اسے رسوا کر دیتا ہے اگرچہ وہ اپنے گھر کے تہہ خانہ میں ہو۔''
(شعب الایمان ، باب فی تحریم اعراض الناس، الحدیث:۶۷۰۴،ج۵،ص۲۹۶،بتغیر)
(23)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اے وہ لوگو جو زبانوں سے تو ایمان لے آئے ہو مگر تمہارے دل میں ابھی تک ایمان داخل نہیں ہوا! مسلمانوں کوایذا ء مت دو، نہ ہی انہیں نقصان پہنچاؤ اور نہ ان کے عیوب کو تلاش کرو کیونکہ جواپنے مسلمان بھائی کی عیب جوئی کرے گااللہ عزوجل اس کاعیب ظاہر فرما دے گا اور اللہ عزوجل جس کاعیب ظاہر فرما دے تو اسے رسوا کر دیتا ہے اگرچہ وہ اپنے گھر کے تہہ خانہ میں ہو۔'' عرض کی گئی :''یارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! کیامؤمن پر پردہ ہوتا ہے؟'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''اللہ عزوجل کے مسلمانوں پر اتنے پردے ہیں جنہیں شمارنہیں کیا جا سکتا، جب مؤمن گناہ کرتا ہے تو وہ ایک ایک کر کے ان پردوں کو چاک کر دیتا ہے یہاں تک کہ اس پر ایک بھی پردہ باقی نہیں رہتا تو اللہ عزوجل ملائکہ سے ارشاد فرماتا ہے :''میرے بندے کے عیوب لوگوں سے چھپا دو کیونکہ وہ اسے عار تو دلائیں گے مگر بدلنے کی کوشش نہیں کریں گے۔'' تو ملائکہ اپنے پروں سے ڈھانپنے کے لئے اسے گھیرلیتے ہیں، پھر اگر وہ گناہ جاری رکھتا ہے تو ملائکہ عرض کرتے ہیں :''اے ہمارے رب عزوجل! یہ ہم پر غالب آ گیا ہے اور ہمیں نجاست سے آلودہ کر دیا ہے۔'' تو اللہ عزوجل ملائکہ سے ارشاد فرماتاہے :''اسے کھلا چھوڑ دو پھر اگر وہ کسی تاریک رات میں تاریک مکان کی اندھیری کوٹھری میں بھی کوئی گناہ کرتا ہے، تو بھی اللہ عزوجل اس کو اور اس کے عمل کو ظاہر کر دیتا ہے۔''
     (کنزالعمال، کتاب الاخلاق ، قسم الاقوال،باب تتبع العورات، الحدیث:۷۴۲۴،ج۳،ص۱۸۴)
Flag Counter