| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
(16)۔۔۔۔۔۔دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''حسن اَخلاق دنیااور آخرت کی بھلائیاں لے گیا۔''
(المعجم الکبیر،الحدیث:۴۱۱،ج۲۳،ص۲۲۲)
بعض احادیثِ مبارکہ کامفہوم :
٭۔۔۔۔۔۔بندہ اچھے اخلاق سے روزہ دار اور عبادت گزار کا درجہ پا لیتا ہے، نیز آخرت کے درجات اور جنت کے بالاخانوں کو پا لیتا ہے۔ ٭۔۔۔۔۔۔بداخلاقی ایساگناہ ہے جس کی بخشش نہیں۔ ٭۔۔۔۔۔۔بندہ اس کی وجہ سے جہنم کے سب سے نچلے درجے میں پہنچ جاتاہے۔ ٭۔۔۔۔۔۔اچھا اخلاق خطاؤں کو اس طرح پگھلادیتاہے جس طرح دھوپ برف کو پگھلادیتی ہے۔ ٭۔۔۔۔۔۔خوش خُلقی(باعث)برکت ہے۔ ٭۔۔۔۔۔۔قیامت کے دن لوگوں میں نبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے سب سے زیادہ قریب وہی ہو گا جس کااخلاق سب سے اچھاہوگا۔ ٭۔۔۔۔۔۔سب سے اچھا اخلاق شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کااخلاق ہے۔ ٭۔۔۔۔۔۔سب سے افضل مؤمن وہی ہے جس کااخلاق سب سے اچھاہے۔ ٭۔۔۔۔۔۔میزان میں رکھے جانے والے اعمال میں حسن اخلاق سب سے افضل اور وزنی ہوگا۔ (17)۔۔۔۔۔۔اُم المومنین حضرت سیدتناعائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاارشاد فرماتی ہیں:'' حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کااَخلاق قرآن تھا۔''قرآنِ کریم میں فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
خُذِ الْعَفْوَ وَاۡمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰہِلِیۡنَ ﴿199﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اے محبوب معاف کرنااختیارکرو اور بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں سے منہ پھیرلو۔(پ9، الاعراف:199) (18)۔۔۔۔۔۔اس آیتِ مبارکہ کے نزول کے بعدحضورنبئ کریم ،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''اس سے مرادیہ ہے کہ جو تم سے تعلق توڑے تم اس سے جوڑو اور جو تمہیں محروم کرے تم اسے عطا کرو اور جو تم پرظلم کرے تم اسے معاف کر دو۔''
(الدرالمنثورفی التفسیربالمأثور،سورۃ الاعراف،آیت ۱۹۹،ج۳،ص۶۳۰)
(19)۔۔۔۔۔۔نبی مکرم ،شفیع معظم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمان ذیشان ہے :'' ابلیس اپنے چیلوں سے کہتاہے کہ ظلم اور حسد کی طلب میں انسانوں کی مدد کیا کرو کیونکہ یہ دونوں چیزیں اللہ عزوجل کے نزدیک شرک کے برابرہیں۔''
(فردوس الاخبارللدیلمی،باب الف، فصل حکایۃ عن الانبیاء،الحدیث:۹۲۳،ج۱،ص۱۴۴)
اَفَاَمِنُوۡا مَکْرَ اللہِ ۚ فَلَا یَاۡمَنُ مَکْرَ اللہِ