(11)۔۔۔۔۔۔مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جس کا اخلاق برا ہو گا وہ تنہا رہ جائے گا اور جس کے رنج زیادہ ہوں گے اس کا بدن بیمار ہو جائے گا اور جو لوگوں کو ملامت کریگا اس کی بزرگی جاتی رہے گی اور مروت ختم ہو جائے گی۔''
(المطالب العالیۃ ،کتاب البروالصلۃ،باب حسن الخلق،الحدیث: ۲۶۰۲،ج۷،ص۱۱۶)
(12)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''بداخلاق آدمی جنت میں داخل نہ ہوگا ۔ ''
(جامع الترمذی، ابواب البروالصلۃ، باب ماجاء فی الاحسان الخادم،الحدیث:۱۹۴۶،ص۱۸۴۷،سییء الخلق بدلہ''سییء الملکۃ'')
(13)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''لوگ مختلف چیزوں کے سرچشمے ہیں اور باپ دادا کی عادتیں اولاد میں ضرورمنتقل ہوتی ہیں اور بے ادبی بہت بری عادت کی طرح ہے۔''
(شعب الایمان، باب فی الجود والسخاء، الحدیث:۱۰۹۷۴،ج۷،ص۴۵۵)
(14)۔۔۔۔۔۔صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''بے شک برااخلاق عمل کو اس طرح خراب کرتاہے جیسے سرکہ شہدکو خراب کرتاہے۔''
(جامع الاحادیث للسیوطی،قسم الاقوال ،الحدیث:۷۰۰۵،ج۳،ص۱۷)
(15)۔۔۔۔۔۔نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نماز شروع کرتے وقت یہ دعا کیا کرتے تھے :
''اَللّٰھُمَّ اھْدِنِیْ لِاَحْسَنِ الْاَخْلَاقِ لَایَھْدِیْ لِاَحْسَنِھَآاِلَّآ اَنْتَ وَاَصْرِفْ عَنِّیْ سَیِّئَھَالَایُصْرِف سَیِّئَھَآ اِلَّآ اَنْتَ''
یعنی اے اللہ عزوجل!مجھے اچھے اخلاق کی راہنمائی فرماکیونکہ اچھے اخلاق کی راہنمائی تو ہی فرماتاہے اور مجھ سے بُرے اَخلاق دور رکھ کیونکہ برے اخلاق سے تو ہی دوررکھتاہے۔''
(سنن النسائی،کتاب الافتتاح، باب نوع اخر من الدعاء۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۸۹۷،ص۲۱۴۵،اصرف،یصرف بدلہ''قنی،یقنی'')
اس باب میں اور بھی بہت سی احادیث مبارکہ مروی ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ،