Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
265 - 857
(1)۔۔۔۔۔۔اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ،، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''بے شک جسم میں خون کا ایک لوتھڑا ہے، جب یہ درست ہو جائے تو سارا جسم درست ہو جائے گا اور جب یہ بگڑ جائے تو سارا جسم بگڑ جائے گا، سن لو! وہ دل ہے۔''
(صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب فصل من استبرألدینہ،الحدیث:۵۲،ص۶)
(2)۔۔۔۔۔۔دل سارے اعضاء کا بادشاہ ہے اور دیگراعضاء اس کے لشکراور تابع ہیں، جب بادشاہ بگڑ جائے تو سارا لشکربگڑ جاتا ہے، جیسا کہ حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا :''دل بادشاہ ہے جبکہ دیگر اعضاء اس کے لشکر ہیں، جب بادشاہ اچھا ہو تو فوج بھی اچھی ہوتی ہے اور جب بادشاہ ہی خبیث ہو جائے تو فوج بھی خبیث ہو جاتی ہے۔''

    لہٰذاجسے ان امراض سے محفوظ دل عطا کیا گیا ہو اسے چاہے کہ اللہ عزوجل کا شکر ادا کرے اور جو اپنے دل میں ان میں سے کوئی مرض پائے اس پر اس بیماری کے زائل ہو جانے تک اس کا علاج کرنا واجب ہے، اگروہ اس کاعلاج نہ کریگاتو  گناہ گار ہو گا اور ان امراض کی موجودگی میں بندہ اسی صورت میں گناہ گارہوتاہے جب کہ وہ کسی گناہ کی نیت اور ارادہ اپنے دل میں کرے، محض دل میں خیال آنے یاسبقتِ لسانی سے زبان سے نکل جانے سے گناہ گار نہیں ہوتا۔

    ان تمام گناہوں کو کبیرہ کہنافقط اہلِ تصوف ومعرفت کے طریقہ کے مطابق ہے اور امام ِفقیہ انہی بزرگوں میں سے ہیں اسی لئے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے اہل مذہب علمائے شافعیہ کے خلاف کلام کيا البتہ ان گناہوں میں بعض مُتَّفَقْ علیہ کبیرہ گناہ بھی ہیں جیسے حسد، کینہ، ریاکاری، شہرت کے لئے عمل کرنا، تکبر اور خودپسندی وغیرہ جن کا ذکر ہو چکا ہے، اسی طرح اور بہت سے گناہ ایسے ہیں جنہیں کبیرہ کہاجاسکتاہے اور یہ آپ عنقریب جان لیں گے جب ہم ان کے بارے میں سخت وعیدپردلالت کرنے والی احادیث بیان کریں گے۔

    اصطلاحی معنی کے اعتبارسے ظلم فقہاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے نزدیک گناہ ِ صغیرہ ہے کبیرہ نہیں جیساکہ فقہاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے اس کی تصریح کی ہے، اسی طرح بعض گناہوں کی تفصیل اپنے مقام پرآئے گی جیسے ترک زکوٰۃ کے بیان میں بخل اور لالچ کی اور غیبت کے بیان میں بدگمانی کی تفصیل ذکر کی جائے گی۔

    ہمارے ائمہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ میں سے اس بات کہ''دنیا پر خوش ہونا حرام ہے۔'' کی تصریح کرنے والوں میں حضرت سیدناامام بغوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بھی شامل ہیں، شاید سیدناامام غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی نے انہی سے یہ قول لیا اور اس پر یہ اضافہ کر دیا کہ یہ کبیرہ گناہ ہے کیونکہ یہ ایسی برائیوں کا پیش خیمہ ہے جس کے نقصانات بہت زیادہ ہیں کیونکہ یہ بات تو واضح ہے کہ دنیاپرخوش ہونے کی حرمت کا محل اسی صورت میں ہے کہ جب یہ تکبرو فخراور ہم عصرلوگوں کی تحقیر وغیرہ جیسی خرابیوں اور برائیوں پرمشتمل ہو جبکہ اپنی عزت قائم رکھنے، اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو لوگوں کے مال کی محتاجی سے بچانے کے لئے ہو یامحتاجوں کی مددکے
Flag Counter