| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
کبیرہ نمبر31: مسلمان سے بدگمانی رکھنا کبیرہ نمبر32: حق کوقبول نہ کرنا اس وجہ سے کہ وہ خواہش نفسانی کےخلاف ہو یا پھر نا پسند یدہ اورمبغوض شخص سے ظاہر ہو کبیرہ نمبر33: بندے کا گناہ پر خوش ہونا کبیرہ نمبر34: گناہ پر اصرار کرنا کبیرہ نمبر35: نیکی پرتعریف کا خواہاں ہونا کبیرہ نمبر36: دنیاوی زندگی پرراضی اور مطمئن رہنا کبیرہ نمبر37: اللہ عزوجل اور آخرت کو بھلادینا کبیرہ نمبر38: نفس کے لئے غصہ کرنا اور اس کی با طل ذرائع سے مدد کرنا
بعض متأخرین ائمہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے پانچ سے لے کراڑتيس(38)تک مندرجہ بالا تمام گناہوں کے باہم ایک دوسرے میں کثیر تداخل کے باوجود علیحدہ علیحدہ کبیرہ گناہ ہونے کی تصریح فرمائی ہے، یہ ائمہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ فقہ ومعرفت، علم وعمل، ہدایتِ سالکین اور تربیتِ مریدین، ظاہری کرامات اور بیشماراعلیٰ احوال واخلاق کے جامع تھے، چنانچہ اس بحث کی ابتدا میں فرماتے ہیں کہ جہاں تک باطنی کبائر کا تعلق ہے تو مکلف پران باطنی کبائرکی معرفت حاصل کرنا واجب ہے تا کہ وہ ان کو زائل کرنے کی کوشش کر سکے، کیونکہ جس کے دل میں ان میں سے ایک بھی مرض ہو گا وہ اللہ عزوجل کی بارگاہ میں قلبِ سلیم لے کر حاضر نہ ہو سکے گا۔اَلْعَیَاذُبِاللہِ۔
ان باطنی امراض میں مَعَاذَ اللہ کفر، نفاق، تکبر، فخر، غرور، حسد، خیانت، کینہ پروری، ظلم کرنا اور غیراللہ کے لئے ناراض ہونا یا غیراللہ کے لئے غصہ کرنا، ریاکاری یا شہرت کے لئے عمل کرنا، ملاوٹ کرنا، بددیانتی، بخل، اور حق سے منہ پھیرنا وغیرہ شامل ہیں۔پھراس کے بعدفرماتے ہیں :''ان جیسے گناہوں پربندے کی مذمت کرنا اس کے زنا، چوری، شراب نوشی اور ان جیسے دیگربدنی کبیرہ گناہوں پر مذمت کئے جانے سے بھی عظیم ہے کیونکہ اس کافساد زیادہ اور نتیجہ برا اور دائمی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان جیسے کبیرہ گناہوں کا اثر حالت اور کیفیت بن کر دل میں راسخ ہو جاتا ہے جبکہ دیگربدنی گناہوں کے اثرات جلد زائل ہو جاتے ہیں مثلاًکبھی توبہ واستغفارکے ذریعے تو کبھی گناہ مٹا دینے والی نیکی کے ذریعے زائل ہوجاتے ہیں اور بسا اوقات کوئی مصیبت وپریشانی ان گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے۔