| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
کو حرام نہیں جانتا۔'' مزید آگے الفاظ یہ ہیں :''جو کثرت سے موت کا ذکر کرتا ہے اللہ عزوجل اسے اپنا محبوب بنا لیتا ہے۔''
(اتحاف السادۃ المتقین ،کتاب ذم الکبر،ج۱۰،ص۲۵۳)
(124)۔۔۔۔۔۔صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم چند صحابہ کرام علیہم الرضوان کے ساتھ کسی جگہ کھانا تناول فرمارہے تھے کہ دروازے پر ایک ایسا سائل آیا جو ایک موذی وناپسندیدہ مرض میں مبتلا تھا لیکن پھر بھی آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اسے اندرآنے کی اجازت مرحمت فرما دی، جب وہ اندر آیا توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اسے اپنے زانو مبارک کے ساتھ ملا کر بٹھا لیا اور اس سے ارشاد فرمایا :''کھاؤ۔'' تو قریش کے ایک شخص کو یہ بات ناگوار گزری اوراس نے نفرت کا اظہار کیا، پس وہ شخص اس وقت تک نہ مرا جب تک خود اسی موذی مرض میں مبتلا نہ ہو گیا۔''
(المرجع السابق، ص۲۵۴)
شیخ الاسلام زین عراقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ مجھے اس حدیث کی اصل نہیں ملی البتہ بعض ایسی روایات ملتی ہیں جن میں نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے کوڑھ میں مبتلا شخص کے ساتھ کھانا کھانے کا ذکرہے۔ (125)۔۔۔۔۔۔شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباذنِ پروردگارعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جب اللہ عزوجل کسی بندے کو اسلام کی ہدایت دے، اس کی صورت بھی اچھی بنائے، اسے ایسی جگہ رکھے جو اسے عیب دارنہ کرے اورساتھ ہی اسے تواضع بھی عطا فرمادے تو وہ اللہ عزوجل کا مخلص دوست ہی ہو سکتا ہے۔''
(المرجع السابق، ص۲۵۶)
(126)۔۔۔۔۔۔حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''چار چیزیں اللہ عزوجل اپنے محبوب بندہ ہی کو عطا فرماتا ہے: (۱)خاموشی اور یہی عبادت کی ابتداء ہے (۲)توکل (۳)تواضع (۴)اور دنیا سے بے رغبتی۔''
(المرجع السابق۲۵۶)
(127)۔۔۔۔۔۔مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''چار چیزیں ایسی ہیں کہ جن تک پہنچنا عجیب ہے: (۱)خاموشی اور یہی عبادت ابتداء ہے (۲)تواضع(۳)ذکراللہ عزوجل اور (۴)کم چلنا۔
(المعجم الکبیر،الحدیث:۷۴۱،ج۱،ص۲۵۶)
(128)۔۔۔۔۔۔نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کھانا تناول فرما رہے تھے:'' چیچک کے مرض میں مبتلا ایک حبشی شخص حاضرِ خدمت ہوا جس کی کھال مرض کی وجہ سے چِھل چکی تھی، وہ جس شخص کے قریب جا کر بیٹھتا وہ شخص وہاں سے اٹھ جاتا تو رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم نے اسے اپنے قریب بٹھا لیا۔ ''
(اتحاف السادۃ المتقین ،کتاب الذم الکبر،ج۱۰،ص۲۵۷)
(129)۔۔۔۔۔۔حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے صحابہ کرام علیہم الرضوان سے استفسار فرمایا!کیا