| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
ساتھ تھے یہاں تک کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک ایسے مقام پر پہنچے جہاں گھٹنوں تک پانی تھا، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی اونٹنی پرسوارتھے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اونٹنی سے اترے اور اپنے موزے اتا رکراپنے کندھے پررکھ لئے، پھر اونٹنی کی لگام تھام کرپانی میں داخل ہو گئے تو حضرت سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی :''اے امیرالمؤمنین! آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ کام کررہے ہیں مجھے یہ پسند نہیں کہ یہاں کے باشندے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نظر اٹھا کر دیکھیں۔'' تو حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا :''افسوس!اے ابوعبیدہ! اگریہ بات تمہارے علاوہ کوئی اور کہتا تو میں اسے اُمت محمدی علی صاحبھاالصلوٰ ۃ والسلام کے لئے عبرت بنا دیتا، ہم ایک بے سرو سامان قوم تھے، پھر اللہ عزوجل نے ہمیں اسلام کے ذریعے عزت عطا فرمائی، جب بھی ہم اللہ عزوجل کی عطا کردہ عزت کے علاوہ سے عزت حاصل کرنا چاہیں گے تو اللہ عزوجل ہمیں رسوا کردے گا۔'' (120)۔۔۔۔۔۔مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''خوشخبری ہے اس شخص کے لئے جو تنگدستی نہ ہوتے ہوئے تواضع اختیار کرے اورجائز طریقہ سے حاصل کیا ہوا مال راہِ خدا عزوجل میں خرچ کرے اور محتاج ومسکین پررحم کرے اور اہل علم وفقہ سے میل جول رکھے۔''
(المعجم الکبیر، الحدیث:۴۶۱۶،ج۵،ص۷۲)
(121)۔۔۔۔۔۔مروی ہے کہ ''مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم مقام قبا میں ہمارے ساتھ تھے جبکہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم روزے سے تھے، افطارکے وقت ہم آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی خدمت میں دودھ کا ایک برتن لے کر حاضر ہوئے جس میں ہم نے کچھ شہد بھی ملا دیا تھا، جب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اسے اٹھا کر چکھا اور اس کی مٹھاس پائی تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے دریافت فرمایا :''یہ کیا ہے؟'' ہم نے عرض کی :''یارسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! ہم نے اس میں کچھ شہدملا دیا ہے۔'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے وہ برتن رکھ دیا اور ارشادفرمایا :''میں اسے حرام قرار نہیں دیتا مگرجو اللہ عزوجل کے لئے تواضع اختیارکرے تو اللہ عزوجل اسے رفعت عطا فرماتا ہے، جو تکبرکرے اللہ عزوجل اسے رسوا کر دیتا ہے، جو میانہ روی اختیار کرتا ہے اللہ عزوجل اسے غنی فرما دیتا ہے، جو فضول خرچی کرتا ہے اللہ عزوجل اسے تنگدست کر دیتا ہے اور جو کثرت سے اللہ عزوجل کا ذکرکرتا ہے اللہ عزوجل اس سے محبت کرنے لگتا ہے۔''
(اتحاف السادۃ المتقین ،کتاب الذم الکبر،ج۱۰،ص۲۵۳)
(122)۔۔۔۔۔۔اس حدیث پاک کوبزارنے بھی روایت کیا ہے مگراُس میں نہ تو مقام قبا کا ذکرہے نہ یہ الفا ظ ہیں کہ''جو اللہ عزوجل کا کثرت سے ذکرکرتاہے اللہ عزوجل اس سے محبت کرنے لگتا ہے۔'' (123)۔۔۔۔۔۔اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی حدیثِ مبارکہ کے الفاظ کچھ اس طرح ہیں کہ ''حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں ایک برتن پیش کیا گیا جس میں دودھ اور شہد تھا۔'' اس کے آگے یہ الفاظ ہیں: ''میں اس