| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
(94)۔۔۔۔۔۔سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''کسی چیزکا مالک خود اس کا بوجھ اٹھانے کا زیادہ حق رکھتا ہے مگر جب وہ ضعیف ہو اور اسے اٹھانہ سکتا ہو تواس کا مسلمان بھائی بوجھ اٹھانے میں اس کی مدد کرے۔''
(المعجم الاوسط،الحدیث:۶۵۹۴،ج۵،ص۶۵)
(95)۔۔۔۔۔۔شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''تواضع کو لازم پکڑ لو کیونکہ تواضع دل میں ہوتی ہے اور کوئی مسلمان کسی مسلمان کو ایذا ء نہ دے کیونکہ بعض اوقات کمزورنظر آنے والے لوگ ایسے بھی ہیں کہ اگر کسی بات پر اللہ عزوجل کی قسم اٹھالیں تو اللہ عزوجل ان کی قسم ضرور پوری فرماتا ہے۔''
(المعجم الکبیر، الحدیث:۷۷۶۸،ج۸،ص۱۸۶)
(96)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''جس کا خادم اس کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھائے اور بازار میں وہ گدھے پر سوار ی کرے اور بکری کا دودھ دوہنے کے لئے اس کی ٹانگیں رسی سے باندھے وہ متکبر نہیں ہو سکتا۔''
(شعب الایمان، باب فی حسن الخلق ، فصل فی التواضع، الحدیث: ۸۱۸۸،ج۶،ص۲۸۹)
(97)۔۔۔۔۔۔تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''ہر شخص کے سر میں ایک لگام ہوتی ہے جسے ایک فرشتہ تھامے ہوتا ہے اگر وہ تواضع سے کام لے تو فرشتے سے کہا جاتا ہے :''اس کی قدر بلند کر دو۔'' اور جب وہ تکبر کرتا ہے تو فرشتے سے کہا جاتا ہے :''اس کی قدر ومنزلت کو پست کر دو۔''
(المعجم الکبیر، الحدیث:۱۲۹۳۹،ج۱۲،ص۱۶۹)
(98)۔۔۔۔۔۔مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جس نے اللہ عزوجل کے لئے عاجزی اختیار کی اللہ عزوجل اسے بلندی عطا فرمادیتاہے۔''
(مجمع الزوائد،کتاب الادب، باب فی التواضع،الحدیث:۱۳۰۶۷،ج۸،ص۱۵۷)
(99)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''کھردرا اور تنگ لباس پہنا کرو تاکہ عزت افزائی اور فخرکو تم میں کوئی جگہ نہ ملے۔''
(کنزالعمال،کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، الحدیث:۵۷۲۸،ج۳،ص۴۹)
(100)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اَدنی درجے کا لباس پہننا ایمان میں سے ہے۔'' یعنی اللہ عزوجل کے لئے تواضع کرتے ہوئے اعلیٰ لباس ترک کرنا اور ادنی لباس کو ترجیح دینا ایمان کی علامت ہے۔
(سنن ابی داؤد، کتاب الترجل، باب ۱،الحدیث:۴۱۶۱،ص۱۵۲۶)
(101)۔۔۔۔۔۔صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جس نے قدرت کے باوجود اللہ عزوجل کے لئے اعلیٰ لباس ترک کر دیا تو اللہ عزوجل قیامت کے دن اسے لوگوں کے سامنے بلا کر اختیار دے گا کہ