| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
کی وضاحت میں تفسیرِ قرطبی میں لکھا ہے کہ''اگر ان عورتوں نے ایسا مردوں کے سامنے خود کو نمایاں کرنے کی غرض سے کیا تو یہ حرام ہے اور اسی طرح اُن مرد وں کے لئے بھی ایسا کرنا حرام ہے جو خود پسندی کے زعم میں زور زور سے زمین پر جوتے پٹخاتے ہیں کیونکہ خود پسندی کبیرہ گناہ ہے۔''
تکبر یا اللہ عزوجل کے مقابلہ میں ہو گا جو کہ تکبر کی سب سے بُری قسم ہے جیسے فرعون، اور نمرود کا تکبر کہ انہوں نے اللہ عزوجل کی بندگی سے انکار کردیا اورربوبیت کا دعوی کر بیٹھے، چنانچہ اللہ عزوجل کا فرمانِ عالیشان ہے:(1) اِنَّ الَّذِیۡنَ یَسْتَکْبِرُوۡنَ عَنْ عِبَادَتِیۡ سَیَدْخُلُوۡنَ جَہَنَّمَ دَاخِرِیۡنَ ﴿٪60﴾
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک وہ جو میری عبادت سے اونچے کھنچتے (تکبر کرتے)ہیں عنقر یب جہنم میں جائیں گے ذلیل ہوکر۔(پ24، المؤمن: 60)
(2) لَنْ یَّسْتَنْکِفَ الْمَسِیْحُ
ترجمۂ کنز الایمان:مسیح اللہ کا بندہ بننے سے کچھ نفرت نہیں کرتا۔(پ6، النساء: 172)
یا اللہ عزوجل کے رسول کے مقابلہ میں ہو گا، اس کی صورت یہ ہے کہ تکبر،جہالت اورعنادکی بنا پر رسول کی پیروی نہ کرنا جیسا کہ اللہ عزوجل نے کفارِ مکہ اور دیگر اُمتوں کے کافروں کی حکایات بیان فرمائی ہيں یا پھر بندوں کے مقابلہ میں ہوگا، وہ اس طرح کہ اپنے آپ کو بڑا سمجھ کراور دوسرے کو حقیر جان کر اس کی اطاعت سے انکار کرنا، اُس پربڑائی چاہنا اور مساوات کو ناپسند کرنا، یہ صورت اگرچہ پہلی دو صورتوں سے کم تر ہے مگر اس کا گناہ بھی بہت بڑا ہے کیونکہ کبریائی اور عظمت بادشاہِ حقیقی عزوجل ہی کے لائق ہے نہ کہ عاجزاور کمزور بندے کے لائق، لہٰذا بندے کا تکبر کرنا اللہ عزوجل کے ساتھ اس کی ایسی صفت میں جھگڑنا ہے جو اسی مالک عزوجل کے لائق ہے، متکبر بندہ گویا اس شخص کی طرح ہے جس نے کسی بادشاہ کا تاج پہنا اور پھر اس کے تخت پر بیٹھ گیا، تو اس کی ناراضگی کے مستحق ہونے اور جلد ہی ذلیل ورسوا ہوجانے کا کیا عالم ہو گا؟ اسی لئے بیان شدہ حدیث مبارکہ میں اللہ عزوجل نے فرمایا :''جو میری عظمت اور کبریائی میں میرے ساتھ جھگڑا کریگا میں اسے ہلا ک کر دوں گا۔''مرا د یہ ہے کہ یہ دونوں صفات اللہ رب العزت عزوجل ہی کے ساتھ خاص ہیں لہٰذاان میں جھگڑاکرنے والا صفا ت اِلٰہیہ میں جھگڑا کرنے والا ہے، اسی طرح بندوں پر اپنی بڑائی بیان کر نا بھی اللہ عزوجل کے ہی لائق ہے لہٰذا جو بندوں پر تکبر کریگا اسے مجرم سمجھا جائے گا جس طرح بادشاہ کے خاص غلاموں کو ذلیل سمجھتے ہوئے کسی وجہ سے ان سے جھگڑنا اگرچہ اس کی غلطی بادشاہ کے تخت پر بیٹھنے جیسی نہیں۔