Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
243 - 857
    خلیفہ بننے سے پہلے حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک مرتبہ متکبرانہ چال چلے تو حضرت سیدنا طاؤس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے کندھے پر چٹکی کاٹ کر ارشاد فرمایا: ''جس کے پیٹ میں کچھ بھلائی ہو اس کی چال ایسی نہیں ہوتی۔'' تو حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے معذرت خواہا نہ انداز میں عرض کی:''۱ے محترم چچا جان! ایسی چال چلنے کی وجہ سے میرے ہر عضو کو ماریں تا کہ وہ جان لے۔''

    حضرت سیدنا محمد بن واسع رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے بیٹے کو اِترا کر چلتے ہوئے دیکھا تو اس سے فرمایا :''کیاتو جانتاہے کہ تو کیا ہے؟ تیری ماں کو تو میں نے دو سو درہم دے کر خریدا تھا اور تیرا باپ ایساہے کہ اللہ عزوجل مسلمانوں میں اس جیسے لوگوں کی کثرت نہ فرمائے۔''

    حضرت سیدنا مطرف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مُہَلَّبْ (پورا نام مہلّب بن ابی صفرہ ، حجاج کے لشکر کا ایک رئیس)کو ریشم کا جبہ پہنے اترا کر چلتے دیکھا تواس سے ارشاد فرمایا :''اے اللہ عزوجل کے بندے! یہ ایسی چال ہے جسے اللہ عزوجل اورنبئ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ناپسند فرماتے ہیں۔'' تو مُہَلَّبْ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا: ''کیا آپ مجھے نہیں جانتے؟'' تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا :''کیوں نہیں! میں جانتا ہوں کہ تمہاری ابتدا ایک حقیر نطفہ سے ہوئی اور اِنتہا بدبودار مردار کی صورت میں ہو گی اور ان دونوں کی درمیانی مدت میں گندگی اٹھائے پھر رہے ہو۔'' تومُہَلَّبْ نے ایسی چال چلنا چھوڑدی۔
تنبیہات
تنبیہ1:
    مذکورہ گناہوں کو کبیرہ گناہوں میں شمار کرنا بالکل ظاہر ہے اور علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی ایک جماعت بھی اس کی قائل ہے، بعض علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے فخرتکبراور خودپسندی وغیرہ کو انیسواں کبیرہ گناہ شمار کیا ہے، عنقریب اس کی مکمل وضاحت باب اللباس میں آئے گی، اور انہوں نے اپنے اس قول کی دلیل گزشتہ مروی احادیثِ مبارکہ کوہی بنایا ہے چنانچہ،شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ارشاد فرماتے ہیں :''جس کے دل میں رائی برابر بھی تکبر ہو گا وہ جنت میں داخل نہیں ہو گا۔''
(صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب تحریم الکبر، الحدیث:۲۶۷،ص۶۹۴)
    اللہ عزوجل کے اس فرمانِ عالیشان:
وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِھِنَّ
ترجمۂ کنز الایمان:اور زمین پر پاؤں زور سے نہ رکھیں۔(پ18، النور:31)
Flag Counter