| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
تکبر کی ان دونوں قسموں میں حق کے احکام کی مخالفت لازم آتی ہے، ان میں خودپسندی اور نفسانی خواہش کی بنا پر دینی مسائل میں جھگڑنے والے بھی داخل ہیں کیونکہ متکبر کا نفس غیر سے سنی ہوئی بات کو قبول کرنے سے انکار کردیتا ہے، اگرچہ اس پر اس کی حقانیت بھی واضح ہو گئی ہو بلکہ اس کا تکبر اسے اس بات کو غلط اور باطل ثابت کرنے میں مبالغہ کی طرف لے جاتا ہے، لہٰذا اس شخص پر اللہ عزوجل کے یہ فرامین صادق آتے ہیں:
وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَا تَسْمَعُوۡا لِہٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ الْغَوْا فِیۡہِ لَعَلَّکُمْ تَغْلِبُوۡنَ ﴿26﴾
ترجمۂ کنز الایمان:اور کافر بولے یہ قرآن نہ سنواور اس میں بیہودہ غل (شور)کروشاید یونہی تم غالب آؤ۔(پ24، حٰمۤ السجدۃ:26)
(2) وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُ اتَّقِ اللہَ اَخَذَتْہُ الْعِزَّۃُ بِالۡاِثْمِ فَحَسْبُہٗ جَہَنَّمُ ؕ وَلَبِئْسَ الْمِہَادُ
ترجمۂ کنز الایمان:اور جب اس سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈروتو اسے اور ضد چڑھے گناہ کی ایسے کو دوزخ کافی ہے اور وہ ضرور بہت برا بچھونا ہے۔﴿206﴾ (پ2، البقرۃ:206)
حضرت سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :''بندے کے گناہ گار ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ جب اس سے کہا جائے کہ اللہ عزوجل سے ڈرو تو وہ کہے تُوصرف اپنی فکر کر۔''
(81)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ایک شخص سے ارشاد فرمایا :''دائیں ہاتھ سے کھاؤ۔'' تواس نے تکبر کی بنا پر کہا :''میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔'' تو اس کا ہاتھ ہی خشک ہوگیااور اس کے بعد وہ کبھی اپناوہ ہاتھ اٹھا نہ سکا۔(صحیح مسلم،کتاب ،الحدیث:۲۰۲۱،ص۱۱۱۸،مفہوماً )
ایسی صورت میں بندوں پر تکبر کرنا خالق پر تکبر کی طرف لے جاتاہے کیا تم نہیں جانتے کہ ابلیس نے جب حضرت سیدنا آدم علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام پر اپنے اس قول (اَنَا خَیْرٌ مِّنْہ،) کے ذریعے تکبراورحسد کیا تو اس کی یہ بات اللہ عزوجل کے حکم کی مخالفت کی وجہ سے اسے اللہ عزوجل کے مقابلے میں تکبر کی طرف لے گئی اور وہ اَبدی ہلاکت میں مبتلا ہو گیا، اسی لئے صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے حق کو قبول نہ کرنے اور لوگوں کو حقیر جاننے کو متکبر کی علامات قرار دیا۔
تکبر کی وجوہات:
علم وعمل، نسب ومال، حسن وجمال، طاقت وقوت اور مریدین کی کثرت کی وجہ سے غیر سے کامل امتیاز کا اعتقاد رکھنا تکبر پر ابھارنے کا سبب ہے، جن علما کو اللہ عزوجل کی جانب سے توفیق کا نور عطا نہیں کیا گیا وہ دوسروں کے مقابلے میں جلد تکبر میں مبتلا ہو جاتے ہیں کیونکہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کو اپنے مقابلے میں چوپائے کی طرح سمجھتا ہے، اس لئے وہ اس کے ان شرعی حقوق کی