تکبرکے متعلق بزرگانِ دین علیہم الرحمۃکے فرامین
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:''کسی مسلمان کوہر گز حقیر مت سمجھو کیونکہ حقیر مسلمان اللہ عزوجل کے نزدیک بڑے مرتبہ والا ہوتاہے۔''
حضرت سیدنا وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب اللہ عزوجل نے جنت عدن کو پیدا فرمایا تو اس کو دیکھ کر ارشاد فرمایا :''تُو ہر متکبر پرحرام ہے۔''
حضرت سیدنا ا حنف رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :''آدمی پر تعجب ہے کہ وہ تکبر کرتاہے حالانکہ وہ دو مرتبہ پیشاب گاہ سے نکلا ہے۔''
حضرت سیدنا حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :''آدمی پر تعجب ہے کہ وہ روزانہ ایک یادو مرتبہ اپنے ہاتھ سے ناپاکی دھوتا ہے پھر بھی زمین وآسمان کے بادشاہ سے مقابلہ کرتاہے۔''
حضرت سیدنا سلیمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایسے گناہ کے بارے میں پوچھا گیا جس کی موجودگی میں کوئی نیکی فائدہ نہیں دیتی تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا :''وہ گناہ تکبر ہے۔''
حضرت سیدنا حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک امیر کو متکبرا نہ چال چلتے ہوئے دیکھا تو اس سے فرمایا کہ اے احمق!تکبر سے اِتراتے ہوئے ناک چڑھا کر کہا ں دیکھ رہا ہے ؟ کیا ان نعمتوں کودیکھ رہا ہے جن کا شکر ادا نہیں کیا گیا یاان نعمتوں کو دیکھ رہا ہے کہ جن کا تذکرہ اللہ عزوجل کے احکام میں نہیں۔'' جب اس نے یہ بات سنی تو عذر پیش کرنے حاضر ہوا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا :''مجھ سے معذرت نہ کربلکہ اللہ عزوجل کی بارگاہ میں توبہ کر کیا تم نے اللہ عزوجل کا یہ فرمان نہیں سنا:
وَ لَا تَمْشِ فِی الۡاَرْضِ مَرَحًا ۚ اِنَّکَ لَنۡ تَخْرِقَ الۡاَرْضَ وَلَنۡ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوۡلًا ﴿37﴾
ترجمۂ کنز الایمان: اور زمین میں اتراتا نہ چل بے شک ہرگز زمین نہ چیر ڈالے گا اور ہر گز بلندی میں پہاڑوں کو نہ پہنچے گا۔(پ15، بنی اسرائیل:37)