| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
(69)۔۔۔۔۔۔اور ایک روایت میں ہے :''رائی کے ذرے برابربھی تکبر ہو گاوہ جنت میں داخل نہ ہو گا۔''
(صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب تحریم الکبر، الحدیث:۲۶۷،ص۶۹۴)
(70)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا کریب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو لے کر ابو لہب کی بھٹی کی طرف جا رہا تھا کہ انہوں نے مجھ سے دریافت فرمایا: ''کیا ہم فلاں مقام پر پہنچ گئے ہیں؟'' تو میں نے عرض کی کہ ''آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اب اس مقا م کے قریب پہنچ چکے ہیں۔'' تو انہوں نے ارشاد فرمایا :''مجھے میرے والد عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا: ''میں اس جگہ پر حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ساتھ تھا آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا کہ ایک شخص دو چادریں اوڑھے متکبرانہ چال چلتا ہوا آیا، وہ اپنی چادریں دیکھتا ہوا اس پر اِترا رہا تھا کہ اللہ عزوجل نے اسے اِس جگہ زمین میں دھنسا دیااب وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی رہے گا۔''
(مسند ابی یعلی الموصلی، مسند العباس بن عبدالمطلب، الحدیث:۶۶۶۹،ج۶، ص۵)
(71)۔۔۔۔۔۔اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''ہر متکبر، اِترا کر چلنے والا، مال جمع کرنے اور دوسروں کو نہ دینے والا جہنمی ہے، جبکہ ہر کمزور ومغلوب شخص جنتی ہے۔''
(شعب الایمان، باب فی حسن الخلق ، فصل فی التواضع، الحدیث:۸۱۷۰،ج۶،ص۲۸۴)
(72)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے(حضرت سیدناسراقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے ارشاد فرمایا: ''اے سراقہ! کیا میں تمہیں جنتی اور جہنمی لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟''(آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہيں کہ ) میں نے عرض کی: ''یا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! ضرور بتائیے۔'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''ہر سختی کرنے والا، اِترا کر چلنے والا، اپنی بڑائی چاہنے والا جہنمی ہے جبکہ کمزور اور مغلوب لوگ جنتی ہیں۔''
(المعجم الکبیر،الحدیث:۶۵۸۹،ج۷،ص۱۲۹)
(73)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ہم دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ساتھ ایک جنازے میں شریک تھے کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''کیا میں تمہیں اللہ عزوجل کے بدترین بندے کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ بد اخلاق اورمتکبر ہے، کیا میں تمہیں اللہ عزوجل کے سب سے بہترین بندے کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ کمزور اور ضعیف سمجھا جانے والا بوسیدہ لباس پہننے والا شخص ہے جسے کوئی اہمیت نہیں دی جاتی لیکن اگر وہ کسی بات پر اللہ عزوجل کی قسم اٹھالے تو اللہ عزوجل اس کی قسم ضرور پوری فرمائے۔''
(المسندللامام احمد بن حنبل،مسند حذیفہ بن یمان، الحدیث: ۲۳۵۱۷،ج۹،ص۱۲۰،بدون''لایؤبہ لہ'')
(74)۔۔۔۔۔۔رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''کیامیں تمہیں اہل جنت کے بارے