| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
فارس(ايران) وروم میری اُمت کے ماتحت ہوں گے اوروہ متکبرانہ چال چلے گی تو وہ ایک دوسرے پر ہی قبضہ جمائيں گے ۔'' (64)۔۔۔۔۔۔حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جو اپنے آپ کو بڑا جانے یا متکبرانہ چال چلے وہ اللہ عزوجل سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ عزوجل اس پر ناراض ہو گا۔''
(المسندللامام احمدبن حنبل،مسندعبداللہ بن عمربن خطاب،الحدیث:۶۰۰۲،ج۲،ص۵۴۱)
(65)۔۔۔۔۔۔نبئ کریم ،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:''تین چیزیں ہلاکت میں ڈالنے والی ہیں: (۱) لالچ جس کی اطاعت کی جائے (۲)خواہش جس کی پیروی کی جائے (۳)بندے کا اپنے عمل کو پسند کرنا یعنی خود پسندی۔''
(مجمع الزوائد،کتاب الایمان،باب فی المنہیات والمہلکات،الحدیث:۳۱۳،ج۱،ص۲۶۹)
(66)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے ، نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا: ''جب نوح (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ (علیہ الصلوٰۃ والسلام) نے اپنے دونوں بیٹوں کو بلاکر ارشاد فرمایا :''میں تمہیں دو باتوں کا حکم دیتاہوں اور دوباتوں سے منع کرتا ہوں جن دو باتوں سے منع کرتا ہوں وہ شرک اور تکبر ہیں، اورجن دو باتوں کا حکم دیتا ہوں : (۱)ان میں سے پہلی لَآاِلٰہَ اِلَّا اللہُ پر استقامت ہے، کیونکہ اگر زمین وآسمان اور ان کی ہر چیز ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دی جائے اور لَآاِلٰہَ اِلَّا اللہ کو دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے تولَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ ان سب پر غالب آ جائے گا اور اگر زمین وآسمان ایک حلقہ ہو اور لَآاِلٰہَ اِلَّا اللہُ کو اس پر رکھ دیا جائے تو یہ اس کوتوڑ دے گا اور(۲) دوسری چیز جس کا میں تمہیں حکم دیتا ہوں وہ سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہٖ پڑھنا ہے کیونکہ یہی ہرچیز کی تسبیح ہے اور اسی کے سبب ہر چیز کو رزق دیا جاتا ہے۔''
(المسند للامام احمدبن حنبل،مسندعبداللہ بن عمروبن عاص،الحدیث:۷۱۲۳،ج۲،ص۶۹۵)
(67)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا عیسٰی علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام ارشاد فرماتے ہیں:''سعادت ہے اس کے لئے جسے اللہ عزوجل نے اپنی کتاب سکھائی اورپھر وہ شخص ظالم ہو کرنہ مرا۔''
(الزہدللامام احمدبن حنبل،بقیۃ زہد عیسٰی علیہ السلام،الحدیث:۴۷۲،ص۱۲۵)
(68)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، ایک مرتبہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بازار سے اس حالت میں گزرے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سر پر لکڑیوں کی گٹھڑی اٹھا رکھی تھی، تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا :''جب اللہ عزوجل نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس سے بے نیاز کر دیا ہے تو پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گٹھڑی اٹھانے پرکس چیز نے آمادہ کیا؟'' تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:''میں نے اپنے آپ سے تکبر دور کرنے کے لئے ایسا کیا ہے کیونکہ میں نے رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کوارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :''جس کے دل میں رائی برابربھی تکبر ہو گا وہ جنت میں داخل نہ ہو گا۔''
(المعجم الکبیر،الحدیث:۱۰۰۰۰،ج۱۰،ص۷۵)