Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
238 - 857
لگا،تُو نے مال جمع کیا اور لوگوں سے روکے رکھا یہاں کہ جب تو اِنتہا کو جا پہنچا تو کہنے لگا :''میں صدقہ کروں گا۔''مگر اب صدقہ کا وقت کہاں؟''
(المستدرک،کتاب الرقاق،باب اشقی الاشقیاء۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۷۹۸۴،ج۵،۴۶۰،بدون''بردین وللأرض منک وئید'')
(59)۔۔۔۔۔۔صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے :''جہنم سے ایک ایسا بچھو نکلے گا جس کے دو کان ہوں گے اور وہ ان سے سنتا ہو گا، دو آنکھیں ہوں گی جن سے وہ دیکھے گا اور ایک بولنے والی زبان ہو گی، اسے تین شخصوں پر مسلّط کیا جائے گا: (۱)ہر عناد رکھنے والے ظالم(۲)مشرک اور(۳) تصویر بنانے والے پر۔''
(جامع الترمذی،ابواب صفۃ جہنم،باب ماجاء فی صفۃ النار،الحدیث:۲۵۷۴،ص۱۹۱۱)
(60)۔۔۔۔۔۔تاجدار ِرسالت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :'' جنت اور جہنم میں مباحثہ ہو گیا تو جہنم نے کہا: ''مجھے متکبرین اور ظالموں سے ترجیح دی گئی۔'' اور جنت نے کہا: ''مجھے کیا پرواہ ہو سکتی ہے کہ مجھ میں کمزور، عاجز اور گرے پڑے لوگ داخل ہوں۔'' تو اللہ عزوجل نے جنت سے ارشاد فرمایا: ''تو میری رحمت ہے، میں تیرے ذریعے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہوں گا رحم کروں گا۔'' اور جہنم سے ارشاد فرمایا :''تو میرا عذاب ہے، تیرے ذریعے میں اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں گا عذاب دوں گا، اور تم دونوں کو بھر دیا جائے گا۔''
(صحیح مسلم،کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا،باب الناریدخلہا۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۷۱۷۳،ص۱۱۷۲)
(61)۔۔۔۔۔۔دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جنت اور جہنم میں مباحثہ ہو گیا تو جہنم نے کہا :''مجھ میں ظالم اور متکبر لوگ ہیں۔'' اور جنت نے کہا :''مجھ میں کمزور اور مسکین مسلمان ہیں۔'' تو اللہ عزوجل نے ان دونوں کے درمیان یوں فیصلہ فرمایا :''اے جنت! تُومیری رحمت ہے، تیرے ذریعے میں جس پر چاہوں گا رحم کروں گا، اور اے جہنم! تُو میرا عذاب ہے تیرے ذریعے میں جسے چاہوں گا عذاب دوں گا اور تم دونوں کو بھرنا میرے ذمۂ  کرم پر ہے۔''
(صحیح مسلم،کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا،باب الناریدخلہا۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۷۱۷۳،ص۱۱۷۲،بتغیرٍقلیلٍ)
(62)۔۔۔۔۔۔سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''بدتر ہے وہ بندہ جو بخل اور تکبر کرے اور بلند وبالا اور بڑائی والے (یعنی اللہ عزوجل) کو بھول جائے، بدتر ہے وہ بندہ جو ظلم وزیادتی کرے اور جبار عزوجل کو بھلا دے، بدتر ہے وہ بندہ جو غافل ہوا ور کھیل کو د میں پڑا رہے اورقبرستان اور اس میں بوسیدہ ہونے کو بھول جائے، بدتر ہے وہ بندہ جو سرکشی کرے اور حد سے بڑھ جائے اوراپنی اِبتدا اور اِنتہا کو بھول جائے، بدتر ہے وہ بندہ جو دین کو شہواتِ نفسانیہ سے فریب اور دھوکا دے، بدتر ہے وہ بندہ جس کا رہنما حرص ہو، بدتر ہے وہ بندہ جس کو خواہشات راہِ حق سے بھٹکا دیں، بدتر ہے وہ بندہ جس کا شوق اور رغبت اس کو ذلیل وخوار کر دے۔''
(63)۔۔۔۔۔۔شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار،باذنِ پروردگار عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جب
Flag Counter