Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
237 - 857
والی قوموں کو باز آ جانا چاہے، کیونکہ وہی جہنم کا کوئلہ ہیں، یا وہ قومیں اللہ عزوجل کے نزدیک گندگی کے ان کیڑوں سے بھی حقیر ہو جائیں گی جو اپنی ناک سے گندگی کو کریدتے ہیں، اللہ عزوجل نے تم سے جاہلیت کا تکبر اور ان کا اپنے آباء پر فخر کرنا ختم فرما دیا ہے، اب آدمی متقی و مؤمن ہو گا یا بدبخت وبدکار ، سب لوگ حضرت آدم (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کی اولاد ہیں اور حضرت آدم (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے۔''
    (جامع الترمذی،ابواب المناقب،باب فی فضل الشام والیمن،الحدیث:۳۹۵۵،ص۲۰۵۵)
(54)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا سلیمان بن داؤد علی نبینا وعلیہما الصلوٰۃ والسلام نے ایک دن جن وانس، درندوں اور پرندوں کو باہر نکلنے کاحکم دیا تو دو لاکھ انسان اوردو لاکھ جِن حاضر خدمت ہوگئے، پھر آپ علی نبیناوعلیہ الصلوٰۃ والسلام اتنےبلند ہوئے کہ آپ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے آسمانوں کے فرشتوں کی تسبیح کرنے کی آواز سن لی، پھر آپ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نیچے تشریف لائے یہا ں تک کہ آپ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے قدم مبارک سمندر سے مل گئے کہ اچانک آپ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک آواز سنی،''اگر تمہارے ساتھی کے دل میں رائی کے دانے جتنا بھی تکبر ہوتا تو میں اسے اس سے بھی دورتک زمین میں دھنسا دیتا جتنا اسے بلندی پرلے گیا تھا۔''

(55)۔۔۔۔۔۔مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اللہ عزوجل تکبر سے اپنا تہبند لٹکانے والے پر نظرِ رحمت نہیں فرماتا۔''
 (صحیح البخاری،کتاب اللباس،باب من جر ثوبہ من الخیلاء، الحدیث۵۷۸۸،ص۴۹۴)
(56)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا زید بن اسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پاس حاضر ہوا تو حضرت سیدنا عبداللہ بن واقد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وہاں سے گزر ہوا، انہوں نے نئے کپڑے پہن رکھے تھے تومیں نے حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کویہ فرماتے ہوئے سنا :''بیٹا! اپنا تہبند اونچا کر لو کیونکہ میں نے مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو فرماتے ہوئے سنا ہے :''اللہ عزوجل تکبر سے اپنا تہبند لٹکانے والے پر نظرِ رحمت نہیں فرماتا۔''
(صحیح مسلم،کتاب اللباس والزینۃ، باب تحریم جر الثوب خیلاء، رقم ۵۴۵۳، ص ۱۰۵۱)
(57)۔۔۔۔۔۔سیدناامام مسلم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس روایت کو مرفوع ذکر کیا ہے اور اس میں حضرت سیدنا عبداللہ بن واقد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے قریب سے گزرنے کا ذکر نہیں۔'' نیز امام مسلم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہی کی ایک روایت میں ہے :''گزرنے والا وہ شخص بنی لیث سے تھا جس کا نام مذکور نہیں۔''

(58)۔۔۔۔۔۔ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ایک دن اپنا لعاب دہن اپنی مبارک ہتھیلی پر ڈالا پھر اس میں اپنی انگلی ڈال کر ارشاد فرمایا :''اللہ عزوجل ارشاد فرماتاہے :''اے فرزند آدم! کیا تو مجھے عاجز کریگا؟حالانکہ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا فرمایا ہے، یہا ں تک کہ جب میں نے تجھے درست اوربے عیب پیدا کیا تو تُو دو چادریں اوڑھ کر زمین پر اِترا کر چلنے
Flag Counter