(48)۔۔۔۔۔۔رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''لوگ جس چیز کو بھی بلند کرتے ہیں اللہ عزوجل اسے گرا دیتا ہے۔''
(شعب الایمان، باب الزھد، الحدیث:۱۰۵۱۱،ج۷،ص۳۴۱)
(49)۔۔۔۔۔۔خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌلِّلْعٰلمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''خود پسند ی (70)ستر سال کے عمل کو برباد کر دیتی ہے۔''
(50)۔۔۔۔۔۔صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اگر خود پسندی انسانی شکل میں ہوتی تو سب سے بد صورت انسان ہوتا۔''
(جامع الاحادیث للسیوطی،قسم الاقوال،الحدیث:۱۷۶۵۰،ج۵،ص۱۳۰)
(51)۔۔۔۔۔۔سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃُ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اگر تم گناہ نہ کرتے ہوتے تو تم پر گناہوں سے بڑی مصیبت ڈال دی جاتی جو کہ خود پسندی ہے۔''
(شعب الایمان، باب فی معالجۃ کل ذنب بالتوبۃ،الحدیث: ۷۲۵۵،ج۵، ص۴۵۳)
(52)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے :''حضرت سیدنا عبداللہ بن عمرو اور حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی کوہِ مروہ پر ملاقات ہوئی تو دونوں حضرات آپس میں گفتگو کرنے لگے، پھر جب حضرت سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما تشریف لے گئے توحضرت سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما رونے لگے، لوگوں نے پوچھا: ''اے ابو عبد الرحمن! آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کس چیز نے رُلایا ہے؟'' تو انہوں نے ارشاد فرمایا: ''انہوں نے یعنی حضرت سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے،جنہیں یقین ہے کہ انہوں نے مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا :''جس کے دل میں رائی کے دانے جتنا تکبر ہوگا اللہ عزوجل ا سے منہ کے بل جہنم میں گرائے گا۔''
(شعب الایمان، باب فی حسن الخلق،الحدیث:۸۱۵۴،ج۶،ص۲۸۰)
(53)۔۔۔۔۔۔تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اپنے فوت شدہ آباؤاجداد پر فخر کرنے