Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
232 - 857
رِداء اور عزت میرا ازار ہے، جو ان دونوں چیزوں میں سے کسی کے بارے میں مجھ سے نزاع کریگا میں ا سے عذاب میں مبتلاکر دوں گا۔''
        (کنزالعمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، باب الکبروالخیلاء، الحدیث:۷۷۳۹،ج۳،ص۲۱۱)
(17)۔۔۔۔۔۔نبئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ اللہ عزوجل ارشاد فرماتاہے ''کبریائی میری رداء اور عظمت میرا ازار ہے، لہٰذا جوان میں سے کسی ایک کے بارے میں بھی مجھ سے نزاع کرے گا میں ا سے آگ میں پھینک دوں گا۔''
        (سنن ابی داؤد، کتاب اللباس، باب ماجاء فی الکبر،الحدیث:۴۰۹۰،ص۱۵۲۲)
(18)۔۔۔۔۔۔رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ سلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ اللہ عزوجل ارشاد فرماتاہے ''عزت میرا ازار اور کبریائی میری رداء ہے، لہٰذا جو ان دونوں کے معاملہ میں مجھ سے جھگڑے گا میں اسے عذاب میں مبتلاکروں گا۔''
(المعجم الاوسط،الحدیث:۳۳۸۰،ج۲،ص۳۰۸)
(19)۔۔۔۔۔۔حضور نبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ اللہ عزوجل ارشاد فرماتاہے: '' کبریائی میری رداء اور عظمت میرا ازار ہے، لہٰذا جو ان دونوں میں سے کسی ایک کے معاملہ میں مجھ سے لڑے گا میں اسے جہنم میں پھینک دوں گا۔''
     (سنن ابن ماجہ ، ابواب الزھد،باب البرأۃ من الکبروالتواضع، الحدیث:۴۱۷۴،ص۲۷۳۱)
(20)۔۔۔۔۔۔اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ،، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''جوآدمی اپنے آپ کو بڑا سمجھتاہے اور چلنے میں اِتراتا ہے، وہ اللہ عزوجل سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ عزوجل اس پر غضب فرمائے گا۔''
(المستدرک ،کتاب الایمان، باب من یتعاظم فی نفسہ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۲۰۸،ج۱،ص۲۳۵)
(21)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''تم سب حضرت آدم( علیہ الصلوٰۃ والسلام) کی اولاد ہواور حضرت آدم( علیہ الصلوٰۃ والسلام )کومٹی سے پیداکیا گیاہے، چاہے کہ اپنے آباؤ اَجداد پر فخر کرنے والی قومیں باز آجائیں، یا پھر وہ اللہ عزوجل کے نزدیک کیڑے مکوڑوں سے بھی زیادہ حقیر ہو جائیں گی۔''
(البحرالزخار المعرف مسند البزار،المستظل بن حصین عن حذیفۃ،الحدیث:۲۹۳۸،ج۷،ص۳۴۰)
(22)۔۔۔۔۔۔دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''تکبر سے بچتے رہو کیونکہ اسی تکبر نے ہی شیطان کو اس بات پر اُبھارا تھا کہ وہ حضرت آدم( علیہ الصلوٰۃ والسلام ) کو سجدہ نہ کرے، حرص سے بچو کیونکہ حرص ہی نے حضرت آدم( علیہ الصلوٰۃ والسلام ) کو شجرِ ممنوعہ کھانے پر آمادہ کیا اور حسد سے بھی بچتے رہو کیونکہ حضرت آدم( علیہ الصلوٰۃ والسلام ) کے دو بیٹوں میں سے ایک نے دوسرے کو حسد ہی کی بنا پر قتل کیا تھا، لہٰذا حسد اس خطا کی جڑہے۔''
(جامع الاحادیث للسیوطی،قسم الاقوال،الحدیث:۹۳۱۴،ج۳،ص۳۹۰)
Flag Counter