(139)۔۔۔۔۔۔حضور نبئ پاک ، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''دین کے لئے غصہ میری اُمت کے بہترین اور نیک لوگوں ہی کو آتاہے۔''
(المرجع السابق، الحدیث:۵۸۰۰،ج۳،ص۵۵)
(140)۔۔۔۔۔۔اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ،، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''حاملینِ قرآن سے زیادہ دینی معاملے میں کوئی غضبناک ہونے کا مستحق نہیں کیونکہ ان کے سینے میں قرآن پاک کی عزت و عظمت ہوتی ہے۔''
(المرجع السابق، الحدیث:۵۸۰۳،ج۳،ص۵۵)
(141)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''بے شک انسان بردباری کی وجہ سے عبادت گزاراورروزہ دارکا درجہ پا لیتا ہے، اور کبھی وہ ظالم لکھا جاتا ہے حالانکہ صرف اپنے اہل خانہ ہی پر قدرت رکھتاہے۔''
(المعجم الاوسط،الحدیث:۶۲۷۳،ج۴،ص۳۶۹)
(142)۔۔۔۔۔۔دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''بردبار انسان دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی سردار ہوتا ہے اور قریب ہے کہ بر دبار انسان نبی کے فیض کو پا لے۔''
(کنزالعمال،کتاب الاخلاق،الحدیث:۵۸۰۷/۵۸۱۰،ج۳،ص۵۵)
(143)۔۔۔۔۔۔رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اے اشج! تم میں دو خصلتیں ایسی ہیں جنہیں اللہ عزوجل پسند فرماتا ہے، اور وہ برد باری اوروقار ہیں۔''
(سنن ابن ماجہ، ابواب الزھد، باب الحلم،الحدیث:۴۱۸۷،ص۲۷۳۱)
(144)۔۔۔۔۔۔خاتَم ُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''وہ شخص بردبار نہیں ہو سکتاجو ان لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک نہ کرے جنہیں اس کے ساتھ رہنے کے سوا کوئی چارہ نہ ہو یہاں تک کہ اللہ عزوجل اس کے لئے کوئی راہ نکال دے۔''
(شعب الایمان ، باب فی حسن الخلق،فصل فی من العشرۃ، الحدیث:۸۱۰۵،ج۶،ص۲۶۷)بتغیرٍ قلیلٍ)
(145)۔۔۔۔۔۔سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''بردباری سے بڑھ کر کوئی چیز اچھی