میں پیشاب کیا تو صحابہ کرام علیہم الرضوان اسے مارنے کے لئے دوڑے، تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''اسے چھوڑ دو اور اس کے پیشاب پرپانی کا ڈول بہا دو کیونکہ تمہیں نرمی کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے تنگی کرنے کے لئے نہیں بھیجاگیا۔''
(صحیح البخاری ، کتاب الوضوء ، باب صب الماء علی البول فی المسجد،الحدیث:۲۲۰،ص۲۰،''ذوالخويصرہ''بدلہ ''قام اعرابی'')
(132)۔۔۔۔۔۔نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''بیشک تمہاری دو عادتیں ایسی ہیں کہ جنہیں اللہ عزوجل پسند فرماتاہے وہ وقار اوربرد باری ہیں۔''
(صحیح مسلم ،کتاب الایمان،باب الامر بالایمان باللہ تعالیٰ۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث:۱۱۷،ص۶۸۳)
(133)۔۔۔۔۔۔دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''بیشک تم میں دو خصلتیں ایسی ہیں جنہیں اللہ عزوجل اوراس کا رسول(صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ) پسند فرماتے ہیں وہ خصلتیں حلم اور وقار ہیں ۔''
(شعب الایمان ، باب فی حسن الخلق، الحدیث:۸۴۰۹،ج۶،ص۳۳۵)
(134)۔۔۔۔۔۔شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردگارعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اے اشج! تمہاری دو عادتیں( یعنی حلم اوروقار) ایسی ہیں جنہیں اللہ عزوجل اور اس کا رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پسند فرماتے ہیں۔''
(سنن ابن ماجہ ، ابواب الزھد، باب الحلم،الحدیث:۴۱۸۷،ص۲۷۳۱،بدون''ورسولہ'')
(135)۔۔۔۔۔۔حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ''تم میں دوعادتیں ایسی ہیں جنہیں اللہ عزوجل پسند فرماتاہے وہ وقار اور بر دباری ہیں۔''
(المعجم الکبیر،الحدیث:۸۱۲،ج۲۰،ص۳۴۶،۳۴۵)
(136)۔۔۔۔۔۔حضور نبئ کریم ،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''کیامیں تمہیں نہ بتاؤں کہ کون سے لوگ جہنم پر حرام ہیں؟''یاارشاد فرمایا:''کن لوگوں پر جہنم حرام ہے؟'' ہم نے عرض کی: ''یارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم!ضرور بتایئے۔'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''ہر آسانی پیدا کرنے والے نرم اور خوش گفتار شخص پر جہنم حرام ہے۔''
(جامع الترمذی،ابواب صفۃ القیامۃ، باب فضل کل قریب۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۲۴۸۸،ص۱۹۰۲)
(137)۔۔۔۔۔۔نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :'' غصہ میں انے والے میری اُمت کے بہترین لوگ وہ ہیں کہ جب انہیں غصہ آجائے تو فورًا رجوع کر لیتے ہیں۔''
(المعجم الاوسط،الحدیث:۵۷۹۳،ج۴،ص۲۲۴)