| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے یہ بات حضرت سیدنا عبدا لقیس اشج رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ارشا د فرمائی تھی، اس کا بیان آگے آئے گا۔ (125)۔۔۔۔۔۔تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''بیشک اللہ عزوجل رفیق ہے اور نرمی کو پسند فرماتا ہے اور نرمی پر وہ کچھ عطا فرماتا ہے جو نرمی کے علا وہ کسی شے پر عطا نہیں فرماتا ۔''
(صحیح مسلم ،کتاب البر والصلۃ،باب فضل الرفق، الحدیث:۶۶۰۱،ص۱۱۳۱)
(126)۔۔۔۔۔۔مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جس چیز میں نرمی ہوتی ہے اسے زینت بخشی ہے اور جس چیز سے نرمی نکل جاتی ہے اُسے عیب دارکردیتی ہے۔''
(صحیح مسلم ،کتاب البر والصلۃ،باب فضل الرفق، الحدیث:۶۶۰۲،ص۱۱۳۱)
(127)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جو نرمی سے محروم رہا وہ ہربھلائی سے محروم رہا۔''
(المرجع السابق، الحدیث:۶۵۹۸،ص۱۱۳۱)
(128)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''بیشک اللہ عزوجل نے ہر چیز کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم فرمایا ہے،پس جب تم کسی کو قتل کرو تو اچھے طريقے سے(یعنی بغیر اذیّت پہنچائے فوراً) قتل کر و اور جب ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو اور تم میں سے ہر ایک اپنی چھری کی دھار تیز کرے اور اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچائے۔''
(صحیح مسلم ،کتاب الصید والذبائح۔۔۔۔۔۔الخ،باب الامرباحسان الذبح۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث:۵۰۵۵،ص۱۰۲۷)
(129)۔۔۔۔۔۔اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ارشاد فرماتی ہیں :''صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے راہ خدا عزوجل میں جہاد کے علا وہ کبھی کسی چیز، عورت یا خادم کو اپنے دستِ اقدس سے نہ مارا، اور نہ ہی ایذاء پہنچنے پر ایذا ء دینے والے سے انتقام لیا، البتہ جب اللہ عزوجل کی حرمت کو توڑا جاتا تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اللہ عزوجل کے لئے انتقام لیتے۔''
(صحیح مسلم،کتاب الفضائل،باب مباعدتہٖ للآثام۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۶۰۵۰،ص۱۰۸۸)
(130)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں: ''ایک شخص نے عرض کی: ''یارسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! میرے کچھ رشتہ دار ہیں، میں تو اُن سے صلہ رحمی کرتا ہوں لیکن وہ مجھ سے قطع رحمی کرتے ہیں اور میں ان سے اچھا سلوک کرتا ہوں جبکہ وہ مجھ سے برا سلوک کرتے ہیں، میں ان سے بردباری سے پیش آتاہوں جبکہ وہ مجھ سے جہالت کا برتاؤ کرتے ہیں۔'' تو اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ،، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''اگر تم واقعی ایسا کرتے ہو جیسا تم نے کہا تو گویا تم انہیں گرم رَاکھ کھلا رہے ہو اورجب تک تم ایسا کرتے رہوگے اللہ عزوجل کی طرف سے ان کے مقابلے میں