| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
ہوں، مجھے اللہ عزوجل نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی خدمت میں اس لئے بھیجاہے تا کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم مجھے اپنی قوم کے بارے میں جوچاہیں حکم ارشاد فرمائیں، اگر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم چاہیں تو میں ان پر ان دو پہاڑوں کو ملا دوں؟'' تو میں نے کہا:''مجھے اُمید ہے کہ اللہ عزوجل ان کی پشتوں سے ایسے لوگوں کو پیدافرمائے گا جو ایک اللہ عزوجل کی عبادت کريں گے اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائيں گے۔''
(صحیح مسلم ،کتاب الجہاد، باب مالقی النبی۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث:۴۶۵۳،ص۹۹۸)
(121)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :''میں خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌلِّلْعٰلَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ساتھ جا رہا تھا جبکہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے موٹی دھاریوں والی نجرانی چادر اوڑھ رکھی تھی،راستے میں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو ایک اعرابی ملا اس نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی چادر مبارک کوپکڑ کرزور سے کھینچاتو میں نے دیکھاکہ اعرابی کے چادر کو زور سے کھینچنے کی وجہ سے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی گردن مبارک پر چادر کی دھاریوں کے نشان پڑ گئے تھے سختی سے چمٹا لینے کی وجہ سے اس پر چادر کے گوٹے کے نشان پڑگئے تھے، پھر اس اعرابی نے عرض کی :''یا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! آپ کے پاس موجود اللہ عزوجل کے مال میں سے میرے لئے کچھ حکم دیجئے۔'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اس اعرابی کی طرف توجہ فرمائی اورمسکرانے لگے پھر اس کے لئے کچھ مال دینے کا حکم ارشاد فرمایا۔''
(صحیح البخاری،کتاب فرض الخمس،باب ماکان النبی ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۳۱۴۹،ص۲۵۴)
(122)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :''گویا میں سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم انبیاء کرام میں سے ایک نبی علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی حکایت بیان فرما رہے ہیں کہ انہیں ان کی قوم نے مار مار کر لہولہان کر دیا اور وہ نبی علیٰ نبیناوعلیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے چہرہ مبارک سے خون صاف کرتے ہوئے دعا مانگ رہے تھے :''اے اللہ عزوجل!میری قوم کو معاف فرمادے کہ یہ لوگ مجھے نہيں جانتے ۔''
(صحیح البخاری، کتاب استتابۃ المرتدین،باب ۵،الحدیث:۶۹۲۹،ص۵۷۸)
(123)۔۔۔۔۔۔شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''پہلوانی لوگوں کو پچھاڑ دینے میں نہیں بلکہ پہلوان تو وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے آپ پر قابو پالے۔''
(صحیح البخاری، کتاب الادب، باب الحذر من الغضب، الحدیث:۶۱۱۴،ص۵۱۶ )
(124)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''بے شک تم میں دو خصلتیں ایسی ہیں کہ جنہیں اللہ عزوجل پسند فرماتا ہے اور وہ حلم اور وقار ہیں۔''
(صحیح مسلم ،کتاب الایمان،باب الامر بالایمان۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث:۱۱۷،ص۶۸۳)