Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
219 - 857
(7)وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِلْمُؤْمِنِیۡنَ ﴿88﴾
ترجمہ کنزالایمان:اور مسلمانوں کو اپنے رحمت کے پروں میں لے لو۔ (پ14، الحجر:88)

ان کے علاوہ بھی کئی آیاتِ مقدسہ ان فضائل پر مبنی ہیں۔

(117)۔۔۔۔۔۔اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''بے شک اللہ عزوجل ایسا نرمی فرمانے والاہے کہ ہرکام میں نرمی کوپسند فرماتا ہے۔''
(صحیح البخاری، کتاب استتابۃ المرتدین،باب اذا عرض الذمی۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۶۹۲۷،ص۵۷۸)
(118)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''آسانی پیدا کرو اور مشکل میں نہ ڈالو اور خوشخبری سناؤ اور متنفِّر نہ کرو۔''
    (صحیح مسلم،کتاب الجہاد، باب فی الامر بالتسیر۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث:۴۵۲۵،ص۹۸۵،بتقدمٍ وتأخرٍ)
(119)۔۔۔۔۔۔دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو جب بھی دوچیزوں میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے کا حکم ہوتا تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم دونوں میں سے آسان ترین چيز کو اختیار فرماتے بشرطیکہ وہ گناہ نہ ہو، اگر وہ آسان چيز گناہ ہوتی تو تمام لوگوں سے زیادہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اس سے دوری اختیار فرماتے، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے کبھی بھی اپنے لئے کسی سے انتقام نہ لیا، مگر جب اللہ عزوجل کی حرمت کو توڑا جاتا تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اللہ عزوجل کے لئے انتقام لیتے۔''
     (صحیح البخاری،کتاب الادب،باب قول النبی یسروا۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۶۱۲۶،ص۵۱۶)
(120)۔۔۔۔۔۔اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی :''یارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم!کیا آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر اُحدکے دن سے بھی زیادہ کوئی سخت دن گزرا ہے؟''تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''بیشک مجھے تمہاری قوم سے بہت ایذاء پہنچی ہے جب میں نے خود کو ابن عبد یالیل بن عبد کُلال پر پیش کیا تو اس نے میری دعوت قبول نہ کی لہٰذا میں رنجیدہ چہرہ لئے چل دیا، جب میں ''قَرْنُ الثَّعَالِبْ'' (جوایک جگہ کا نام ہے وہاں)پہنچا تب مجھے افاقہ ہوا،اچانک میں نے اپناسر اٹھایا تو دیکھا کہ ایک بادل مجھ پر سایہ فگن ہے، میں نے اسے دیکھا تو اس میں جبریلِ امین(علیہ السلام) نظر آئے انہوں نے مجھے پکار کر عرض کی :''اللہ عزوجل نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی اپنی قوم سے گفتگواور ان کا جواب سن کر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی خدمت میں ''مَلَکُ الْجِبَال(یعنی پہاڑوں پر مقرر فرشتے )''کو بھیجاہے تا کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اسے اپنی قوم کے بارے میں جو چاہیں حکم ارشاد فرمائیں۔'' پھر ''مَلَکُ الْجِبَال''نے مجھے مخاطب کر کے سلام کیا اور عرض کی :''یارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم!بیشک اللہ عزوجل نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی اپنی قوم کو دی گئی دعوت اور ان کے جواب کو بھی سن لیا ہے، میں پہاڑوں پر مقرر فرشتہ
Flag Counter