جب یہ معلوم ہو گیا کہ انسان کی پسند کے اعتبار سے تین قسمیں ہو سکتی ہیں یعنی یا تو وہ ضروری ہو گی یا غیر ضروری، یا پھر وہ بعض کے نزدیک ضروری ہو گی۔ تو اب یہ بھی جان لیں کہ پہلی قسم یعنی پسندیدہ ضروریاتِ زندگی کے زوال میں عبادت و ریاضت مکمل طور پر تو مؤثر نہیں ہوتی کیونکہ یہ فطری تقاضے ہیں البتہ اس کو ایک ایسی حد پر رکھنے میں ضرور مؤثر ہوسکتی ہے کہ جس کو شرع اور عقل دونوں اچھا جانتے ہوں، جو کہ ممکن ہے، وہ اس طرح کہ ایک مدت تک مجاہدات اور بناوٹی بردباری وغیرہ سے کام لیا جائے یہاں تک کہ وہ بردباری وغیرہ اس کی فطرت میں شامل ہو جائے۔ دوسری قسم کازوال بالکلیہ مجاہدات سے ممکن ہے کیونکہ دل سے ایسی اشیاء کی محبت نکالنا ممکن ہے اس وجہ سے وہ ان کا محتاج نہیں ہوتا اور اس بات کے پیش نظر بھی کہ انسان کا حقیقی وطن قبر اور ٹھکانا آخرت ہے، دنیا تو محض بقدرِ ضرورت زادِ راہ اکٹھا کرنے کی جگہ ہے اور اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ تو وطن(یعنی قبر) اور ٹھکانے(یعنی آخرت) میں اس پر وبال ہی ہو گا ،لہٰذا دنیا کی محبت کو دل سے مٹا کر اس میں زاہدوں( یعنی دنیا سے بے رغبت لوگوں) جیسی زندگی گزارنا چاہے،البتہ ایسا بہت کم ہوتاہے کہ عبادت وریاضت اس گناہِ کبیرہ کو جڑ سے اُکھاڑسکے۔ مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے اس فرمانِ عالیشان میں غور کر لینابھی مناسب ہے کہ
(100)۔۔۔۔۔۔تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اے میرے پروردگار عزوجل! مَیں بھی تو لبادۂ بشری میں ہوں اور مجھے بھی اس حالت میں دوسرے انسانوں کی طرح بعض اوقات غصہ آجاتا ہے، لہٰذا ہر وہ مسلمان جسے میں نے برا بھلا کہا ہو یا اس پر کسی وجہ سے ملامت کی ہو یا اسے مارا ہو تو میرے ان افعال کو قیامت کے دن میری جانب سے اس کے حق میں رحمت، باعث طہارت اور اپنی قربت کا ذریعہ بنادے۔''