| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
امیر المؤمنین حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں :''سیِّدُ المبلِّغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم دنیا کے لئے غضب نہ فرماتے تھے، اورجب کبھی حق بات کے لئے غضب فرماتے تو کوئی پہچان نہ پاتا اور اس وقت تک غضب کی وجہ سے کسی چیز کا فیصلہ نہ فرماتے جب تک کہ اس کی تائید وتوثیق نہ ہو جاتی۔''
حاصل کلام یہ کہ غصے سے چھٹکارے کا سب سے بڑا ذریعہ دنیا کی آفات اور مصیبتو ں کی پہچان حاصل ہوجانے کے بعد دل سے اس کی محبت کو مٹا دینا ہے، جبکہ اس میں وقوع کا سب سے بڑا ذریعہ غرور وتکبر، خود پسندی، مِزاح، مذاق مسخری،عار دلانا، نقصان پہنچانا، دشمنی کرنا، بددیانتی کرنا اور غیر ضروری مال وجاہ (یعنی مقام ومنصب) کا انتہائی حریص ہونا ہے، یہ سب بری اور شرعًا مذموم عادتیں ہیں اور ان اسباب کی موجودگی میں غصہ سے نجات کی کوئی صورت ممکن نہیں، لہٰذا اسے ریاضت اور مجاہدے کے ذریعے زائل کرنا ضروری ہے تا کہ انسان اِن کے مخالف اچھے اوصاف سے آراستہ ہو جائے۔تنبیہ 4:
گذشتہ احادیث سے غصہ کی دوا اور اس کے ہیجان کے بعد اسے زائل کرنے اور علم وعمل کی طرف رجوع کاپتہ چلتا ہے، لہٰذا انسا ن کو چاہے کہ غصہ پینے کی فضیلت میں وارد آئندہ آنے والی روایات اور عفوودرگزر، بردباری اور صبر کے فضائل میں غور کرے کیونکہ اس طرح انسان اللہ عزوجل کے تیار کردہ ثواب میں رغبت کرتاہے جس سے اس کا غصہ اور اہانت وسزا کی طرف مائل کرنے کا سبب زائل ہو جاتا ہے، اسی لئے جب امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمرفاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک شخص کو مارنے کاحکم دیا تو اس نے یہ آیت مبارکہ پڑھی:
خُذِ الْعَفْوَ وَاۡمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰہِلِیۡنَ ﴿199﴾
ترجمۂ کنز الایمان: اے محبوب معاف کرنا اختیار کرو اور بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں سے منہ پھیر لو۔ (پ9، الاعراف:199)
جب حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ آیت مبارکہ سنی اور اس میں غور کیا تو اُسے معاف فرمایادیا، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عادت مبارکہ تھی کہ قرآن پاک سن کراپنے فیصلے سے رُک جاتے اور اس سے تجاوز نہ فرماتے تھے۔
اس معاملہ میں حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی حضرت سیدنا عمرِ فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پیروی کی یوں کہ جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک شخص کو کوڑے مارنے کا حکم دیا تو اس نے یہ آیت مبارکہ پڑھی:وَالْکٰظِمِیۡنَ الْغَیۡظَ
ترجمۂ کنز الایمان: اور غصہ پینے والے۔ (پ4، اٰل عمران:134) تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اسے آزاد کرنے کا حکم دے دیا۔