Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
205 - 857
دستِ اَقدس سے اسے پھینک دیا اور ارشاد فرمایا :''اے عائشہ! قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب ان لوگوں کو ہو گا جو اللہ عزوجل کی صفتِ تخلیق کا مقابلہ کرتے ہیں۔''
 (صحیح البخاری،کتاب اللباس، باب ماوطئی من التصاویر،الحدیث:۵۹۵۴،ص۵۰۵)
 (99)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے قبلہ کی جانب تھوک دیکھا توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر بہت گراں گزرا یہاں تک کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے چہرۂ اقدس سے غضب عیاں ہونے لگا، پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم خود کھڑے ہوئے اور اپنے دستِ اقدس سے اس کومَل کر صاف کر دیااور ارشاد فرمایا:''تم میں سے جب کوئی نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب عزوجل سے مناجات کر رہا ہوتا ہے۔'' یا ارشاد فرمایا:''یقینا اس کے اور قبلہ کے درمیان اس کا رب کریم عزوجل(اپنی شان کے مطابق )ہوتا ہے لہٰذا تم میں سے کوئی بھی قبلہ کی جانب منہ کر کے نہ تھوکے، بلکہ اپنے بائیں یا اپنے قدموں میں یا پھر مسجد کے علاوہ کہیں اور جا کر تھوکے۔'' پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اپنی چادر مبارک کا ایک کونہ پکڑا اور اس میں تھوک کر اس کو بقیہ چادر کے حصے پر مَلتے ہوئے رگڑا اور ارشاد فرمایا: ''یا پھر وہ ایسا کر لیا کرے۔''
 (السنن الکبری للبیہقی،کتاب الصلوٰۃ ، باب من بزق وھو یصلی ، الحدیث:۳۵۹۵،ج۲،ص۴۱۵،بدون ''الغضب'')
تنبیہ 3:
    کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ عبادت و ریاضت سے غضب مکمل طور پر ختم ہو سکتا ہے، اور کچھ کا کہنا ہے کہ'' یہ علاج کو سرے سے قبول ہی نہیں کرتا۔'' جبکہ سیدنا امام غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی فرماتے ہیں :''اس کی حقیقت وہی ہے جو ہم بیان کریں گے۔''

    حاصل کلام یہ ہے کہ جب تک انسان کسی چیز کو پسند یا ناپسند کرتا ہے تو وہ غضب سے بھی پاک نہیں رہ سکتا، پھر اگر وہ پسندیدہ چیز ضروری ہو مثلاً غذا،رہائش ، لباس اور جسمانی صحت وغیرہ تو اس کی تقویت کے لئے غضب کا ہونا بھی انتہائی ضروری ہے، اور اگر وہ پسندیدہ چیز غیر ضروری ہو مثلاً جاہ ومرتبہ، شہرت، مجالس میں صدارت، علم پر فخر اور کثیر مال وغیرہ توممکن ہے زُہد (یعنی دنیا سے بے رغبتی )وغیرہ سے اس پر غضب نہ ہو اگرچہ اس چیز کا پسندیدہ ہونا عادت اورکاموں کے انجام سے ناواقفیت کی وجہ سے ہو، لوگوں کا غضب عام طور پربلکہ اکثر اسی قسم پر ہوتا ہے، یا پھر وہ پسندیدہ چیز بعض کے نزدیک اِنتہائی ضروری ہو گی مثلا ًعلماء کرام کی کتب اور کاریگروں کے آلات وغیرہ، اس قسم میں پسندیدہ چیزکے نہ ملنے پر غضب اسے ہی آتا ہے جس کا انحصار صرف اسی چیز پر ہو دوسرے لوگوں کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔
Flag Counter