| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
لہٰذا جو شخص افراط یا تفریط کا شکار ہو تو اسے چاہے کہ وہ اپنے نفس کا علاج کرے تا کہ اس کا نفس بھی اس صراطِ مستقیم تک پہنچ جائے یا کم از کم اس کے قریب تو ہو ہی جائے،چنانچہ اعتدال کے بارے میں اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا ہے کہ
وَلَنۡ تَسْتَطِیۡعُوۡۤا اَنۡ تَعْدِلُوۡا بَیۡنَ النِّسَآءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ فَلَا تَمِیۡلُوۡا کُلَّ الْمَیۡلِ فَتَذَرُوۡہَا کَالْمُعَلَّقَۃِ ؕ
ترجمۂ کنز الایمان: اور تم سے ہر گز نہ ہوسکے گا کہ عورتوں کوبرابر رکھو اور چاہے کتنی ہی حرص کرو تو یہ تو نہ ہو کہ ایک طرف پورا جھک جاؤ کہ دوسری کو ادھر میں لٹکتی چھوڑ دو۔(پ5، النساء:129)
وہ شخص جو مکمل طور پر خیر کے کام نہ کر سکتا ہو تو اس کے لئے یہ بھی مناسب نہیں کہ اب وہ شر کے کام کرنے لگے کیونکہ بعض شر کے افعال دوسرے برے کاموں سے زیادہ حقیر اور ہیچ ہوتے ہیں جبکہ بعض افعالِ خیر دوسرے نیک کاموں سے زیادہ قدرو منزلت والے ہوتے ہیں، اور اللہ عزوجل اپنے فضل وکرم سے ہرعمل کرنے والے کو اس کے ارادے کے مطابق نوازتا ہے۔تنبیہ 2:
غضب اگر کسی باطل کی وجہ سے ہو تو قابلِ مذمت ہوتا ہے اور اگر باطل کی بجائے حق کی وجہ سے ہو تو قابلِ تعریف ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ جب بھی مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے کسی پرغضب فرمایا تو صرف اللہ عزوجل کی رضا کی خاطر فرمایا۔چنانچہ، (97)۔۔۔۔۔۔تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں ایک شخص نے عرض کی: یارسولَ اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم!میں فجر کی نماز فلا ں شخص کی وجہ سے (جماعت کے بعد) تاخیر سے ادا کرتا ہوں کیونکہ وہ بہت لمبی قراء َت کرتا ہے۔'' (راوی فرماتے ہیں کہ)''میں نے مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کوجتنے جلال وشدت میں اس دن نصیحت کرتے ہوئے دیکھا اس سے پہلے اتنی شدت کبھی بھی نہ دیکھی تھی، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''اے لوگو! تم میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو لوگوں کومتنَفِّرکرتے ہیں، لہٰذاجب تم میں سے کوئی لوگوں کی امامت کرائے تو نماز کو مختصر رکھے کیونکہ اس کے پیچھے بچے، بوڑھے اور ضرورت مند بھی ہوتے ہیں۔''
(صحیح مسلم، کتاب الصلوٰۃ ، باب امرالائمۃ۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث:۱۰۴۴،ص۷۵۱،بتغیرٍ قلیلٍ)
(98)۔۔۔۔۔۔اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ارشاد فرماتی ہیں :''ایک مرتبہ مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سفر سے واپس تشریف لائے تو میں نے گھر کے دروازے پر ایک ایسا پردہ لٹکا رکھا تھا جس پر تصاویر بنی ہوئی تھیں، جب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے وہ دیکھا تو اسے پھاڑ ڈالا یعنی اس میں موجود تصاویر کو مسخ کر کے اپنے