Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
203 - 857
بری ہو گی تو ظاہری حالت بھی تو اسی برائی پر پروان چڑھے گی، لہٰذا ظاہر کی تبدیلی حقیقت میں باطن کی تبدیلی کانتیجہ ہوتی ہے۔
زبان پر اَثرات:
    زبان پر غصے اور غضب کے اثرات اس طرح مرتب ہوتے ہیں کہ اس سے بری باتیں نکلتی ہیں مثلاً ایسی فحش اور گندی گالیاں وغیرہ کہ جن سے ہر صاحبِ عقل انسان کو حیا آتی ہے، ایسی گفتگو کرنے والے شخص کو غصے کے وقت اپنی باتوں پر قابو نہیں رہتا بلکہ اس کے الفاظ بھی بے ربط اورخلط ملط ہو جاتے ہیں۔
اَعضا پر اَثرات:
    اَعضا پر اس کے اثرات اس طرح ہوتے ہیں کہ نوبت مار پیٹ بلکہ قتل تک جا پہنچتی ہے، اگر کوئی شخص بدلہ نہ لے سکتا ہو تووہ اپنا غصہ خود پر ہی نکالنے لگتا ہے وہ اس طرح کہ وہ اپنے ہی کپڑے پھاڑ ڈالتا ہے، اپنے آپ کو اور دوسروں کو یہاں تک کہ جانوروں اور دوسری اشیاء تک کو مارنے یا توڑنے لگتا ہے، بلاوجہ ایک دیوانے اورپاگل شخص کی طرح بھاگنے لگتا ہے اور بعض اوقات زمین پر گر جاتا ہے اور حرکت تک نہیں کر سکتا بلکہ غضب کی زیادتی کی وجہ سے اس پر غشی کی حالت طاری ہو جاتی ہے۔
دل پر اَثرات:
    دل پر اس کے اثرات یہ مرتب ہوتے ہیں کہ جس پر غصہ ہو اس کے خلاف دل میں کینہ اور حسد پیدا ہو جاتا ہے، اس کی مصیبت پر خوشی کا اورخوشی پر غم کااظہار کرتا ہے، اس کا راز فاش کرنے، دامنِ عزت چاک کرنے اور مذاق اُڑانے کا عزمِ مصمم (یعنی پختہ ارادہ)کئے ہوتا ہے اور اس کے علاوہ دیگر برائیاں جنم لیتی ہيں۔
کمالِ مطلق:
    انسان کا مطلق کمال یہ ہے کہ اس کی قوتِ غضب معتدل ہو یعنی نہ تو اس میں افراط ہو اور نہ ہی تفریط، بلکہ وہ قوت دین و عقل کے تابع ہو صرف اسی وقت بھڑکے جہاں حمیت کی ضرورت ہو، اور وہاں یہ بجھی رہے جہاں بردباری سے کام لینا ہی مناسب اور زیبا ہو، یہ وہی استقامت ہے کہ جس کا اللہ عزوجل نے اپنے بندوں کومکلَّف(یعنی پابند)بنایا ہے اوریہی وہ حالت اعتدال ہے جس کی تعریف شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ان الفاظ میں فرمائی:

(96)۔۔۔۔۔۔''اُمور کی بھلائی ان کا اعتدال یعنی درمیانہ پن ہے۔''
 (المصنف لابن ابی شیبۃ ، کتاب الزھد، مطرف بن الشخیر،الحدیث:۱۳،ج۸،ص۲۴۶)
Flag Counter