Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
202 - 857
غیرت مند ہے،اور اللہ عزوجل اس بات پر غيرت فرماتا ہے کہ مؤمن وہ کا م کرے جسے اللہ عزوجل نے اس پر حرام کر دیا ہے۔''
(صحیح مسلم ، کتاب التوبۃ ، باب غیرۃ اللہ وتحریم الفواحش ، الحدیث:۶۹۹۵،ص۱۱۵۶)
قوتِ غضب میں افراط:
    اس قوت میں افراط یعنی اضافہ بھی نہایت مذموم ہے کیونکہ یہ قوت انسان پر غلبہ پاتی ہے تو وہ معقول و منقول ہر دو چیزوں کی سوجھ بوجھ سے عاری ہوجاتا ہے اور اس کے پاس کسی قسم کی دانش وفکر اور اختیار نہیں رہتا بلکہ وہ ایک مضطر(یعنی بے چین) اور مجبور قسم کا انسان بن جاتا ہے جس کا اِضطرار یا تو اس کی اپنی طبیعت کا نتیجہ ہوتا ہے یا پھر دوسروں کی وجہ سے وہ اضطرار کا شکار ہوتا ہے اور یا پھر یہ دونوں وجہیں ہو سکتی ہیں، وہ اس طرح کہ اس کی طبیعت اور فطرت ہی میں غضب وغصہ بھرا ہوا ہو، یا اس کا کسی ایسے شخص سے اختلاف ہوجائے جو اسے بڑا جانتا ہو اور اس کی شجاعت اورکمال کا معترف ہو یہاں تک کہ وہ اس شخص سے صرف اپنی تعریف ہی کی توقع کرتا ہو۔ جب کبھی آتشِ غضب شدید ہو کر بھڑک جائے تو وہ اس شخص کو جس کے اندر یہ آگ بھڑک رہی ہوتی ہے، ہر قسم کی نصیحت سننے، سمجھنے سے اسے اندھا اور بہرہ کر دیتی ہے بلکہ اس حالت میں اس کے نورِ عقل کے بجھ جانے اور ختم ہو جانے کی وجہ سے نصیحت اس کے اِشتعال میں مزید اضافہ کرتی ہے کیونکہ دماغ جو کہ فکر کاسرچشمہ ہے غصے کے بخارات اس تک پہنچ کر محسوس کرنے کے معادن کو ڈھانپ لیتے ہیں، جس سے اس کی بصارت(یعنی سمجھ بوجھ) تاریک ہوجاتی ہے یہاں تک کہ اسے سیاہی کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا، بلکہ بعض اوقات تو اس کی آتشِ غضب میں اتنا اضافہ ہو جاتا ہے کہ اس کے دل کی وہ رطوبت جس سے دل زندگی پاتا ہے، ختم ہوجاتی ہے تونتیجتًاوہ شخص غصے کی زیادتی کی وجہ سے مر جاتا ہے۔
علاماتِ غضب
جسم پر اَثرات:
    غضب کے جسم پر جو اثرات طاری ہوتے ہیں وہ یہ ہیں: رنگ کا متغیر ہونا، کندھوں پر کپکپی طاری ہونا، اپنے افعال پر قابو نہ رہنا، حرکات وسکنات میں بے چینی کا پایا جانا نیز کلام کا مضطرب ہوجانا یہاں تک کہ باچھوں سے جھاگ نکلنے لگتی ہے، آنکھوں کی سرخی حد سے بڑھ جاتی ہے، ناک کے نتھنے پھول جاتے ہيں، بلکہ ساری صورت ہی تبدیل ہو جاتی ہے۔ اگر کوئی غضبناک شخص اس حالت میں اپنی ہی شکل دیکھ لے تو شرم کے مارے اپنی خوبصورت شکل کو بدصورتی میں تبدیل پا کر خود بخود ہی اس کا غصہ ختم ہو جائے گا، کیونکہ کسی بھی انسان کی ظاہری حالت اس کی باطنی کیفیت کی عکاس ہوتی ہے لہٰذا جب باطنی کیفیت ہی
Flag Counter