| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
لوگ ہیں؟'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :'' (۱)اُمراء ظلم کی وجہ سے(۲)عرب عصبیت(یعنی طرف داری) کی وجہ سے(۳) رؤسا اور سردار تکبر کی وجہ سے (۴)تجارت کرنے والے خیانت کی وجہ سے (۵)ديہاتی لوگ جہالت کی وجہ سے اور (۶)علما ء حسد کی وجہ سے۔''
(کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال ،الحدیث:۴۴۰۲۴/۴۴۰۲۳،ج۱۶، ص۳۷، بتغیرٍقلیلٍ)
(88)۔۔۔۔۔۔منقول ہے کہ جب حضرت سیدنا موسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے رب عزوجل کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو عرش کے سائے میں ایک شخص کو دیکھا، انہیں اس کے مرتبہ پر بڑا رشک آیا اور کہا:''بے شک یہ شخص اپنے رب عزوجل کی بارگاہ میں معزز ہے۔'' پھر آپ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے اللہ عزوجل سے سوال کیا کہ وہ آپ کو اس شخص کا نام بتائے تو اللہ عزوجل نے آپ کو اس کا نام نہ بتایا بلکہ فرمایا :''میں تمہیں اس کے تین عمل بتاتا ہوں: (۱)یہ ان نعمتوں پر لوگوں سے حسد نہیں کرتاتھا جو میں نے اپنے فضل سے اُنہیں عطا فرمائی تھیں (۲)نہ اپنے والدین کی نافرمانی کرتا اور(۳) نہ ہی چغل خوری کرتا تھا۔''
(مکارم اخلاق،باب ماجاء فی صلۃ الرحم،الحدیث:۲۵۷،ص۱۸۳)
(89)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا زکریا علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا :''حاسد میری نعمت کا دشمن، میرے فیصلے پر ناخوش اور میری تقسیم پر ناراض رہتا ہے جومیں نے اپنے بندوں کے درمیان فرمائی ہے۔''
(تفسیر ابن ابی حاتم ،باب ۲،ج۴،ص۲۰۳)
ایک بزرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :''حسد وہ پہلا گناہ ہے جس کے ذریعے اللہ عزوجل کی نافرمانی کی گئی، ا بلیس ملعون نے حضرت سیدنا آدم علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کو سجدہ کرنے کے معاملے میں اُن سے حسد کیا، پس اسی حسد نے ابلیس کو نافرمانی پرابھارا۔''
(الدرالمنثورفی التفسیر المأثور، سورۃ البقرۃ۔۔۔۔۔۔ تحت الآیۃ ۳۴،ج۱،ص۱۲۵)
ایک دینی پیشواء نے کسی بادشاہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا :''تکبر سے بچتے رہو کیونکہ یہی وہ پہلا گناہ ہے جس کے ذریعے اللہ عزوجل کی نافرمانی کی گئی۔پھرانہوں نے یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی:
وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اسْجُدُوۡا لِاٰدَمَ
ترجمہ کنزالایمان:اور(یادکرو)جب ہم نے فرشتوں کوحکم دیاکہ آدم کو سجدہ کرو۔ (پ1، البقرۃ:34)
اورپھر فرمایا :''خواہش سے بچتے رہو کیونکہ اسی کے سبب حضرت سیدنا آدم علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام جنت سے الگ کر دئيے گئے ، اللہ عزوجل نے حضرت سیدنا آدم علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کو ایسی جنت میں ٹھہرایا جس کی چوڑائی زمین وآسمان جتنی ہے اس میں آپ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کو ہر چیز کھانے کی اجازت تھی سوائے ایک درخت سے کہ اس سے اللہ عزوجل نے آپ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کومنع فرمایا تھاپس خواہش کے سبب آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس سے کھا لیا تواللہ عزوجل نے آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو جنت سے زمین پر بھیج دیا ،پھر انہوں نے یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی: