(کنزالعمال ، کتاب الزکاۃ ، قسم الاقوال، باب فی فضل الفقر۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۱۶۶۷۸،ج۶،ص۲۱۰)
(84)۔۔۔۔۔۔دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''عنقریب میری اُمت کو پچھلی اُمتوں کی بیماری لاحق ہو گی۔'' صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی :''پچھلی اُمتوں کی بیماری کیا ہے؟'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''تکبر کرنا، اِترانا، کثرت سے مال جمع کرنا اور دنیا میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانا نیز آپس میں بغض وحسد رکھنا یہاں تک کہ وہ ظلم میں تبدیل ہوجائے اور پھر فتنہ وفساد بن جائے۔''
(المعجم الاوسط، الحدیث:۹۰۱۶،ج۶،ص۳۴۸،بدون''تباغضواوتحاسدوا'')
(85)۔۔۔۔۔۔نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :'' مجھے اپنی اُمت پر سب سے زیادہ اس بات کاخوف ہے کہ ان کے پاس مال کی کثرت ہوجائے گی تو یہ لوگ آپس میں حسد کرنے اور ایک دوسرے کو قتل کرنے لگیں گے، پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''حاجتوں کو پورا کرنے کے لئے نعمتیں چھپا کر مدد چاہو کیونکہ ہر ذی نعمت سے حسد کیاجاتا ہے ۔''
(المعجم الکبیر، الحدیث:۱۸۳،ج۲۰،ص۹۴)
(86)۔۔۔۔۔۔رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ سلَّم نے ارشاد فرمایا:''اللہ عزوجل کی نعمتوں کے بھی دشمن ہوتے ہیں۔'' عرض کی گئی :''وہ کون ہیں؟'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''وہ جو لوگوں سے اس لئے حسد کرتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے اپنے فضل وکرم سے اُن کو نعمتیں عطا فرمائی ہيں۔''
(شعب الایمان ، باب فی الحث علی ترک الغل والحسد، الحدیث تحت الباب،ج۵،ص۲۶۳)
(87)۔۔۔۔۔۔حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''چھ قسم کے لوگ حساب سے ایک سال پہلے جہنم میں داخل ہوجائيں گے۔'' عرض کی گئی: ''یارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! وہ کون