| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
ترجمۂ کنز الایمان: فرمایاکہ تم دو نوں مل کر جنت سے اُترو۔(پ16، طٰہٰ:123)
پھر فرمایا :''حسد سے بچتے رہو کیونکہ حسد ہی نے حضرت سیدنا آدم علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے بیٹے کو اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کیا تھا پھر انہوں نے یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی:وَاتْلُ عَلَیۡہِمْ نَبَاَ ابْنَیۡ اٰدَمَ بِالْحَقِّ ۘ اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنۡ اَحَدِہِمَا وَلَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الۡاٰخَرِ ؕ قَالَ لَاَقْتُلَنَّکَ ؕ قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللہُ مِنَ الْمُتَّقِیۡنَ ﴿27﴾
ترجمۂ کنز الایمان: اور انہیں پڑھ کر سناؤ آدم کے دو بیٹوں کی سچی خبر جب دونوں نے ایک ایک نیاز پیش کی تو ایک کی قبول ہوئی اور دوسرے کی نہ قبول ہوئی بولا قسم ہے میں تجھے قتل کر دوں گا کہا اللہ اسی سے قبول کرتاہے جسے ڈر ہے۔ (پ6، المآئدۃ:27)
اورکہا گیا ہے کہ قتل کا سبب یہ بھی تھا کہ قاتل کی بہن مقتول کی زوجہ تھی اورو ہ قاتل کی زوجہ سے زیادہ خوبصورت تھی کیونکہ حضرت سیدتنا حواء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو حضرت سیدنا آدم علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام سے بیس حمل ہوئے تھے اور ہر حمل میں ایک لڑکا اور ایک لڑکی یعنی دو بچے ہوتے تھے، حضرت سیدنا آدم علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام ایک حمل کے لڑکے کا دوسرے حمل کی لڑکی سے نکاح کر دیا کرتے تھے، تو جب قابیل نے دیکھا کہ اس کے بھائی ہابیل کی بیوی میری بیوی سے زیادہ خوبصورت ہے تو اس سے حسد کرنے لگا یہاں تک کہ اسے قتل کر دیا۔
اس دینی پیشواء کی بادشاہ کو کی جانے والی نصیحتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ''جب حضور نبئ پاک ، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے صحابہ کرام علیہم الرضوان کا ذکر ہو تو خاموش رہا کرو، جب تقدیر کا تذکرہ ہو تب بھی خاموش رہو، اسی طرح جب ستاروں کا تذکرہ ہو تو بھی خاموش رہو۔''ایک حاسد کا عبرت ناک انجام:
ایک نیک شخص کسی بادشاہ کے پاس نصیحت کرنے کے لئے بیٹھا کرتا تھا اوروہ اس سے کہا کرتا :''اچھے لوگوں کے ساتھ ان کی اچھائی کی وجہ سے اچھا سلوک کرو کیونکہ برے لوگوں کے لئے ان کی برائی ہی کافی ہے۔'' ایک جاہل کو اس نیک شخص کی (بادشاہ سے) اس قربت پر حسد ہوا تو اس نے اس کے قتل کی سازش تیار کی اور بادشاہ سے کہا :''یہ شخص آپ کوبدبودار سمجھتاہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ جب آپ اس کے قریب جائیں گے تو وہ اپنی ناک پر ہاتھ رکھ لے گا تا کہ آپ کی بدبو سے بچ سکے۔'' بادشاہ نے اس سے کہا: ''تم جاؤ میں خود اسے دیکھ لوں گا۔'' یہ سازشی وہاں سے نکلا اور اس نیک شخص کواپنے گھر دعوت پر بلا کر لہسن کھلا دیا، وہ نیک آدمی وہاں سے نکل کر بادشاہ کے پاس آیا اور حسبِ عادت بادشاہ سے کہا:'' اچھوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو کیونکہ برے کو