| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
خاتَم ُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے خبر دی ہے؟'' تو اس نے کہا :''میرا عمل تو وہی ہے جو تم نے دیکھ لیا ۔'' پھر جب میں واپس آنے لگا تو اس نے مجھے بلاکر کہا :''میرا عمل تو وہی ہے جسے تم نے دیکھ لیا مگر میں اپنے دل میں کسی مسلمان سے بددیانتی نہیں پاتا اورنہ ہی اللہ عزوجل کی عطا کردہ بھلائی پر کسی سے حسد کرتاہوں۔'' تو حضرت سیدنا عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: ''بس یہی وہ ا عمال ہیں جنہوں نے تجھے اس مقام تک پہنچا دیا۔''
(شعب الایمان ، باب فی الحث علی ترک الغل والحسد، الحدیث:۶۶۰۵،ج۵،ص۲۶۴،۲۶۵،بتغیرٍقلیلٍ)
(81)۔۔۔۔۔۔بعض محدّثین کرام رحمھم اللہ تعالیٰ نے اس نامعلوم شخص کا نام''سعد'' بتایاہے اوران کی روایت کردہ حدیث مبارکہ کے آخر میں یہ اضافہ ہے :حضرت سیدناسعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا :''اے میرے بھتیجے! میرا عمل تو وہی ہے جو تم نے دیکھ لیا مگر میں نے کوئی رات ایسی نہيں گزاری کہ میرے دل میں کسی مسلمان کے بارے میں کینہ یا اس جیسی بات ہو۔'' تو حضرت سیدنا عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ''یہی وہ عمل ہے جس نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ مقام دِلایا اور ہم اس عمل پر استقامت پانے کی طاقت نہیں رکھتے۔''
(المسند للامام احمد بن حنبل،مسند انس بن مالک، الحدیث:۱۲۶۹۷،ج۴،ص۳۳۲)
(82)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :''ہم شفیعِ روزِ شُمار،دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردگار عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر تھے کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''ابھی اس دروازے سے ایک جنتی آدمی تمہارے سامنے ظاہر ہو گا۔'' تو حضرت سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ دروازے سے اندر داخل ہوئے۔''
امام بیہقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے جوحدیث مبارکہ بیان کی ، اس میں یوں ہے:حضرت سیدناعبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارادہ کر لیا کہ میں اس شخص کے ساتھ رات گزاروں گا تا کہ اس کا عمل دیکھ سکوں،پھر انہوں نے حضرت سیدنا سعدبن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر اپنے جانے کاذکرکرتے ہوئے فرمایا :''انہوں نے مجھے ایک عباء یعنی بچھونا دیا جس پر میں ان سے قریب ہو کر لیٹ گیا اور اپنی آنکھوں کی جھریوں سے انہیں دیکھنے لگا، وہ جب بھی کروٹ بدلتے،سُبْحَانَ اللہِ، اَللہُ اَکْبَرُ،لَآاِلٰہَ اِلَّا اللہُ
اور
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ
کہتے، یہاں تک کہ جب سحری کا وقت ہوا تو وہ اٹھے اور وضو کر کے مسجد میں داخل ہوئے اور 12درمیانی سورتوں کے ساتھ 12 رکعتیں ادا کیں کہ نہ تو وہ لمبی تھیں اور نہ ہی چھوٹی، اور ہردو رکعتوں میں تَشَھُّد سے فارغ ہونے کے بعد یہ تین دعائیں مانگيں:
(۱)اَللّٰھُمَّ رَبَّنَآاٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔
(یعنی اے ہمارے پروردگار عزوجل !ہمیں دنیا اور آخرت کی بھلائیاں عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔)
(۲)اَللّٰھُمَّ اکْفِنَامَآاَھَمَّنَا مِنْ اَمْرِ اٰۤخِرَتِنَا وَدُنْیَانَا۔
(یعنی اے ہمارے پروردگار عزوجل !ہمارے دنیا اور آخرت کے اہم کاموں کو پورا فرما۔)