Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
193 - 857
ارشاد فرمایا :''آپس میں بغض نہ رکھو اور نہ ہی ایک دوسرے سے حسد کرو، نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے پکارو اور نہ ہی آپس کی رشتہ داری توڑو، اے اللہ عزوجل کے بندو! آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ اورکسی بھی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ جدائی( یعنی ناراضگی) اختیار کرے۔''
 (صحیح مسلم ، کتاب البر والصلہ، باب تحریم التحاسد۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۶۵۲۶،ص۱۱۲۶،بدون''لاتنابزوا'')
 (80)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بار گاہِ اقدس میں حاضر خدمت تھے کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''ابھی اس دروازے سے ایک جنتی شخص داخل ہو گا۔'' تو ایک انصاری شخص داخل ہوا جس کی داڑھی وضو کی وجہ سے تر تھی اور اس نے اپنے جوتے بائیں ہاتھ میں لٹکا رکھے تھے، اس نے حاضرِ بارگاہ ہو کر سلام عرض کیا۔ پھر جب دوسرا دن آیا تو اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ،، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے وہی بات ارشاد فرمائی کہ'' ابھی اس دروازے سے ایک جنتی مرد داخل ہو گا۔'' تو بعینہ وہی شخص پہلے کی طرح حاضرِ بارگاۂ اقدس ہوا، پھر جب تیسرا دن آیاتوحضور نبئ کریم،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے یہی بات ارشاد فرمائی تو حسبِ معمول وہی شخص داخل ہوا، پھر جب دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم تشریف لے گئے تو حضرت سیدنا عبداللہ بن عمروبن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس شخص کے پیچھے چل دیئے اور اس سے کہا : ''میں نے اپنے والد صاحب سے جھگڑ کر قسم اٹھائی ہے کہ میں تین دن تک ان کے پاس نہیں جاؤں گا لہٰذا اگر میں تين راتیں گزرنے تک آپ کے پاس پناہ لیناچاہوں تو کیا آپ ایسا کر سکتے ہيں؟'' اس نے کہا: ''جی ہاں۔'' 

    حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے :''میں نے وہ تین راتیں اس کے ساتھ گزاریں لیکن رات کے وقت اسے کوئی عبادت کرتے ہوئے نہ دیکھا،ہاں! مگر جب وہ بیدار ہوتا یاکروٹ بدلتا تو اللہ عزوجل کا ذکر کرتا اور اَللہُ اَکْبَرُ کہتا اور جب تک نماز کے لئے اقامت نہ ہو جاتی بستر سے نہ اٹھتا اورمیں نے اسے اچھی بات کے علاوہ کچھ کہتے ہوئے نہ سنا، پھر جب تین دن گزرگئے تو میں اس کے عمل کو معمولی جاننے لگا اور اس سے کہا: ''اے اللہ عزوجل کے بندے! میرے اور میرے والد محترم کے درمیان کوئی ناراضگی نہیں تھی مگر چونکہ میں نے رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہاسے تمہارے بارے میں تین مرتبہ یہ کہتے ہوئے سنا :'' ابھی تمہارے پاس ایک جنتی آئے گا تو تینوں مرتبہ تم ہی آئے تومیں نے سوچا کہ تمہارے پاس رہ کر دیکھوں کہ تمہارا عمل کیا ہے تا کہ میں بھی تمہاری پیروی کر سکوں مگر میں نے تو تمہیں کوئی بڑا عمل کرتے ہوئے نہیں دیکھا، پھر تمہیں اس مقام تک کس عمل نے پہنچایا جس کے بارے میں
Flag Counter