| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
(71)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ ربُّ العلَمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اپنے بھائی کی مصیبت پر خوشی کا اظہار مت کروکہ کہیں اللہ عزوجل اسے اس سے عافیت دے دے(اور تمہيں مبتلا فرما دے )۔''
(المعجم الاوسط،الحدیث:۳۷۳۹،ج۳،ص۱۸)
(72)۔۔۔۔۔۔اور ایک روایت میں یوں ہے :''کہِیں اللہ عزوجل اس پر رحم فرما کر تمہیں اس مصیبت میں مبتلا نہ فرما دے۔''
(جامع الترمذی ، ابواب صفۃ القیامۃ، باب لاتظہر الشماتۃ۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث:۲۵۰۶،ص۱۹۰۳)
(73)۔۔۔۔۔۔تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''سب سے برا ٹھِکانا اس شخص کا ہو گا جس نے دوسرے کی دنیا کی خاطر اپنی آخرت برباد کر لی۔''
(سنن ابن ماجہ ،ابواب الفتن ، باب اذا التقی المسلمان۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۳۹۶۶،ص۲۷۱۵،ملخصاً)
(74)۔۔۔۔۔۔ مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''قیامت کے دن سب سے زیادہ ندامت اس شخص کو ہو گی جس نے دوسرے کی دنیا کے عوض اپنی آخرت کو بیچ ڈالا۔''
(تاریخ کبیر للامام بخاری،باب العین ، الحدیث:۷۹۹۸/۱۹۲۷ج۵،ص۳۸۸)
(75)۔۔۔۔۔۔مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''قیامت کے دن اللہ عزوجل کے نزدیک سب سے بدتر مقام اس بندے کا ہو گا جس نے دوسرے کی دنیا کے لئے اپنی آخرت برباد کر ڈالی۔''
(سنن ابن ماجہ ،ابواب الفتن ، باب اذا التقی المسلمان۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۳۹۶۶،ص۲۷۱۵)
(76)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''قیامت کے دن اللہ عزوجل کے نزدیک لوگوں میں سب سے بدتر ٹھکانا اس شخص کا ہو گا جس نے غیر کی دنیا کے بدلے اپنی آخرت بیچ ڈالی۔''
(المعجم الکبیر، الحدیث:۷۵۵۹،ج۸،ص۱۲۳)
(77)۔۔۔۔۔۔ صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''نفسانی خواہشات سے بچتے رہو کیونکہ یہ آدمی کو اندھا، بہرہ کردیتی ہیں۔''
(کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال ،الحدیث:۷۸۲۸،ج۳،ص۲۱۹)
(78)۔۔۔۔۔۔نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :'' اللہ عزوجل کے نزدیک آسمان کے نیچے پیروی کی جانے والی نفسانی خواہشات سے بڑھ کر پوجا جانے والا کوئی جھوٹا خدا نہیں۔''
(المعجم الکبیر،الحدیث:۷۵۰۲،ج۸،ص۱۰۳)
(79)۔۔۔۔۔۔دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے حسد، اس کے اسباب اورنتائج سے بچنے کے متعلق