(64)۔۔۔۔۔۔ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''ہر آدمی حسد کرتاہے مگر حاسد کو اُس کاحسد اُسی وقت نقصان دیتا ہے جب وہ زبان سے بولے یا ہاتھ سے عمل کرے۔''
(جامع الاحادیث، الحدیث:۱۵۷۷۱،ج۶،ص۴۳۲)
(65)۔۔۔۔۔۔حضور نبئ پاک ، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ ''ہر آدمی حسد کرتاہے اور حسد کرنے والے بعض لوگ دوسروں سے افضل ہوتے ہیں اور حاسد کو اس کا حسد اس وقت تک نقصان نہیں دیتا جب تک کہ وہ زبان سے نہ بولے یا ہاتھ سے اس پر عمل نہ کرے۔''
(کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال ،الحدیث:۷۴۴۴،ج۳،ص۱۸۶)
(66)۔۔۔۔۔۔دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''لوگ جب تک آپس میں حسد نہ کريں گے ہمیشہ بھلائی پررہیں گے۔''
(المعجم الکبیر، الحدیث:۸۱۵۷،ج۸،ص۳۰۹)
(67)۔۔۔۔۔۔رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ ''ابلیس (اپنے چيلوں سے)کہتا ہے:''انسانوں سے ظلم اور حسد کے اعمال کراؤ کیونکہ یہ دونوں عمل اللہ عزوجل کے نزدیک شرک کے مساوی ہیں۔''
(جامع الاحادیث، الحدیث:۷۲۶۹،ج۳،ص۶۰)
(68)۔۔۔۔۔۔خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''ظلم اور قطع رحمی کے علاوہ کوئی گناہ ایسا نہیں جس کے مرتکب کو اللہ عزوجل آخرت میں سزا دینے کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی سزا دینے میں جلدی کرتا ہو۔''
(جامع الترمذی ، ابواب صفۃ القیامۃ، باب فی عظم الوعید۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث:۲۵۱۱،ص۱۹۰۴)
(69)۔۔۔۔۔۔سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''ظلم کرنے سے ڈرو کیونکہ ظلم کی سزا سے زیادہ خطرناک کسی اور گناہ کی سزانہیں۔''
(الکامل فی ضعفاء الرجال، ج۷،ص۳۱۵،اخطر بدلہ'' اخضر'')
(70)۔۔۔۔۔۔ شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اگر ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ پر ظلم کرے تو ان میں سے ظالم پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائے گا۔''
(کشف الخفاء، الحدیث:۲۰۹۳،ج۲،ص۱۴۰)