Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
188 - 857
(43)۔۔۔۔۔۔دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''ہر ہفتہ کے دوران پیر اور جمعرات کے دن لوگوں کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں، پھر بغض وکینہ رکھنے والے دو بھائیوں کے علاوہ ہر مؤمن کو بخش دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے ان دونوں کو لمبے عرصے تک چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ اُس بغض سے واپس پلٹ آئیں۔''
(صحیح مسلم،کتاب البروالصلۃ ، باب النھی عن الشحناء، الحدیث:۶۵۴۷،ص۱۱۲۷)
(44)۔۔۔۔۔۔رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''ہر پیر اور جمعرات کو اللہ عزوجل کی بارگاہ میں اعمال پیش کئے جاتے ہیں، تو اللہ عزوجل آپس میں بغض رکھنے اور قطع رحمی کرنے والوں کے علاوہ سب کی مغفرت فرما دیتا ہے۔''
                        (المعجم الکبیر،الحدیث:۴۰۹،ج۱،ص۱۶۷)
(45)۔۔۔۔۔۔خاتَم ُالْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌلِّلْعٰلمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں تو ان دو دِنوں میں ہر اس بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے جومشرک نہ ہو مگر ایک دوسرے سے بغض رکھنے والے دو مسلمان بھائیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان دونوں کو آپس میں صلح کرلینے تک رہنے دو۔''
(سنن ابی داؤد،کتاب الادب ، باب ھجرۃ الرجل اخاہ ، الحدیث:۴۹۱۶،ص۱۵۸۳)
(46)۔۔۔۔۔۔سیِّدُ المبلِّغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جمعرات اور جمعہ کے دن اعمال پیش کئے جاتے ہیں تو مشرک کے علاوہ ہر شخص کی مغفرت کردی جاتی ہے مگر دو شخصوں کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ انہیں آپس میں صلح کرلینے تک مؤخر کر دو۔
''                     ( جامع الاحادیث،الحدیث:۶۹۷۵،ج۳،ص۱۲)
(47)۔۔۔۔۔۔ شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ ''ہر پیر اور جمعرات کے دن اللہ عزوجل کی بارگاہ میں بندوں کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں تو اللہ عزوجل مشرک کے علاوہ ہر بندے کی مغفرت فرمادیتاہے مگر جوشخص اپنے بھائی سے بغض رکھتا ہے اسے چھوڑدیا جاتا ہے۔''
(جامع الاحادیث، الحدیث:۷۳۶۳،ج۳،ص۷۳)
(48)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ ربُّ العٰلمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''پیر اور جمعرات کے دن اللہ عزوجل کی بار گاہ میں اعمال پیش کئے جاتے ہیں تو اللہ عزوجل آپس میں بغض رکھنے اور قطع رحمی کرنے والوں کے علاوہ سب کے گناہ بخش دیتاہے۔''
              (المعجم الکبیر،الحدیث:۴۰۹،ج۱،ص۱۶۷،بدون'' الذنوب'')
(49)۔۔۔۔۔۔تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''ہر پیر اور جمعرات کے دن بنی آدم کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں تو رحم کے طلبگاروں پر رحم کیاجاتاہے اور مغفرت چاہنے والوں کو بخش دیا جاتا ہے مگرکینہ پروروں کو ان کے کینے کی وجہ سے چھوڑدیا جاتاہے۔''
 (المعجم الکبیر،الحدیث:۹۷۷۶،ج۱۰،ص۱۱)
Flag Counter