ہے، نہ اس پر خواہش غلبہ پاتی ہے، نہ اس کا پیٹ اسے رُسوا کرتاہے، نہ ہی اس کا لالچ اسے ذلیل کرتاہے، وہ مظلوم کی مدد کرتا اور کمزور پر رحم کھاتا ہے، اپنے مال میں بخل کرتاہے نہ اسے فضول اُڑاتا ہے اور نہ ہی اپنی اولاد پر خرچ میں تنگی کرتاہے، جب اس پر ظلم ہوتا ہے تومعاف کردیتاہے، جاہل سے درگزر کرتاہے، اس کا نفس خود تو اس سے تکلیف پاتا ہے جبکہ لوگ اس سے خوشی پاتے ہیں۔''
حضرت سیدنا وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :''کفر کے چار اسباب (یہ بھی) ہیں: غصہ، خواہش، وعدہ خلافی، طمع۔'' اس قول کی تائید اس واقعہ سے بھی ہوتی ہے کہ ایک مسلمان کو غصہ نے اسلام سے مرتدہو نے پر ابھارا تو وہ کافر ہو کر مرا۔ لہٰذا غصہ کی برائی اوراس کے نتائج پر خوب غور کرنا چاہے۔
ایک نبی علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے اُمتیوں سے ارشاد فرمایا :''تم میں سے جو مجھے غصہ نہ کرنے کی ضمانت دے گا وہ میرا خلیفہ ہوگا اور جنت میں میرے ساتھ میرے درجے میں ہوگا۔'' تو ایک نوجوان نے عرض کی :''میں ضمانت دیتا ہوں۔'' تو اس نبی علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی بات دہرائی تو اس نو جوان نے دوبارہ عرض کی :''میں ضمانت دیتا ہوں۔'' پھر اس نے اپنا وعدہ نبھا یا، جب اس کا انتقال ہوا تو وہ اس نبی علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ ان کا خلیفہ بن کر ان کے درجے میں پہنچ گیا، یہ نوجوان حضرت سیدنا ذوالکفل علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام تھے، انہیں ذوالکفل اس لئے کہا گیا کیونکہ انہوں نے اپنے بارے میں یہ ضمانت دی تھی کہ میں کبھی غصہ نہ کروں گا اور پھر اپنے اس قول کو نبھایا بھی تھااور ایک قول یہ ہے کہ انہیں ذوالکفل کہنے کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے رات میں عبادت کرنے اور دن میں روزہ رکھنے کی ضمانت دی تھی اور اسے نبھایا تھا۔