Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
186 - 857
    حضرت سیدنا مجاہد علیہ رحمۃ اللہ الواحد فرماتے ہیں کہ ابلیس کہتاہے :''انسانوں نے کبھی مجھے عاجز نہیں کیا، بلکہ تین چیزوں میں تو وہ مجھے ہرگز عاجز نہیں کر سکتے: (۱) جب ان میں سے کوئی نشے میں ہوتا ہے تومیں اس کے نتھنوں سے پکڑ کر اسے جہاں چاہتا ہوں لے جاتاہوں، پھر وہ میری خاطر ہر وہ کام کرتا ہے جسے میں پسند کرتا ہوں(۲)جب آدمی غصہ میں ہوتاہے تو ایسی بات کہہ جاتا ہے جسے نہیں جانتا اور ایسا عمل کرتاہے جس پر بعد میں نادم ہوتاہے اور(۳)جب آدمی اپنے مال میں بخل کرتاہے تومیں اسے ایسی اُمیدیں دلاتاہوں جن پروہ قدرت نہیں پاتا۔''
(شعب الایمان، باب المطاعم والمشارب ، الحدیث:۵۶۰۱،ج۵،ص۱۳)
    حضرت سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :''آدمی کی بردباری اس کے غصہ کے وقت اور اس کی امانت داری اس کے لالچ کے وقت دیکھو، کیونکہ جب وہ غصہ میں نہ ہوتو تمہیں اس کے حلم کا کیاپتہ چلے گا؟ اورجب اسے کسی چیز کا لالچ ہی نہ ہوتو تمہیں اس کی امانت داری کیسے معلوم ہوگی ؟''

    حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے عامل کو مکتوب بھیجا: ''غصہ کے وقت کسی کو سزا نہ دو بلکہ اسے قید کرلو اور جب تمہارا غصہ ٹھنڈا ہوجائے تو اس کے جرم کے مطابق سزا دو اور اسے پندرہ سے زیادہ کوڑے نہ مارو۔'' 

    ایک مرتبہ ایک قریشی نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سخت بدکلامی کی تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دیر تک سر جھکائے رہے پھر ارشاد فرمایا: ''کیاتو چاہتا ہے کہ شیطان، بادشاہی کی عزت کاخیال دلا کر مجھ پر قابو پا لے اور میں تیرے ساتھ ایسا سلوک کربیٹھوں جس کی وجہ سے کل قیامت میں تو مجھ سے بدلہ لے سکے؟'' 

    منقول ہے: ''لوگوں میں سب سے زیادہ عقل مندوہی ہے جسے سب سے کم غصہ آتا ہے پھر اگر وہ ایسا دنیا کے لئے کرتاہے تو یہ اس کا مکر وحیلہ ہے اور اگر آخرت کے لئے کرتاہے تو یہ علم وحکمت ہے۔''

    امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا کرتے تھے :''جو خواہشات،لالچ اور غصہ سے بچ گیا وہ فلاح پاگیا۔'' 

    منقول ہے :''جو اپنی خواہشات اور غصہ کی اطاعت کریگا تویہ دونوں اسے جہنم کی طرف لے جائیں گی۔'' 

    حضرت سیدنا حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مسلمان کی علامتیں یہ ہیں:'' دین میں مضبوط ہونا، نرم مزاجی پر ثابت قدم رہنا، موت پر یقین رکھنا، بردباری کی حالت میں علم سیکھنا، نرمی وشفقت میں بھرپور ہونا، راہِ خداعزوجل میں عطا کرنا، بے نیازی کاقصد کرنا، فاقہ میں صبر کرنا، قدرت کی صورت میں احسان کرنا، تنگدستی میں صبر کرنا، اس پر نہ تو غصہ غالب آتاہے، نہ ہی حمیت طاری ہوتی
Flag Counter