Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
185 - 857
(40)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ''اے ابنِ آدم! جب تُو غصہ کرتا ہے تو اچھلتا ہے قریب ہے کہ کہیں تو ایسی چھلانگ نہ لگا بیٹھے جو تجھے جہنم میں پہنچا دے۔''

    حضرت ذوالقرنین ایک فرشتے سے ملے تو اس سے فرمایا :''مجھے کوئی ایسی بات بتاؤجس سے میرے ایمان اوریقین میں اضافہ ہو۔''تو فرشتے نے کہا :''غصہ نہ کیا کرو کیونکہ شیطان غصہ کے وقت انسان پر سب سے زیادہ غالب ہوتا ہے، لہٰذا غصے کے بدلے عفو ودرگزرسے کام لیاکرو اور وقار کے ساتھ غصہ ٹھنڈا کیا کرو اور جلدبازی سے بچتے رہو کیونکہ جب آپ جلد بازی سے کام لیں گے تو اپنا حصہ گنوا بیٹھیں گے، اَقربا اوردیگر لوگوں کے لئے نرمی و آسانی مہیا کرنے والے بن جاؤ، عناد رکھنے والے اور ظالم نہ بنو۔''

    حضرت سیدنا وہب بن منَبِّہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :''ایک راہب اپنی عبادت گاہ میں عبادت میں مصروف رہتاتھا شیطان نے اسے گمراہ کرنے کا ارادہ کیا لیکن ناکام رہا، پھر اس نے راہب کو عبادت گاہ کا دروازہ کھولنے کے لئے کہا مگر پھر بھی راہب خاموش رہا، تو شیطان نے اس سے کہا: ''اگر میں چلا گیا تو تجھے بہت افسوس ہو گا۔'' راہب پھر بھی خاموش رہا، یہاں تک کہ شیطان نے کہا :''میں مسیح (علیہ السلام) ہوں۔'' تو راہب نے اسے جواب دیا: ''اگر آپ مسیح ہیں تو میں کیا کروں؟ کیا آپ نے ہی ہمیں عبادت میں کوشش کرنے کا حکم نہیں دیا؟ اور کیاآپ نے ہم سے قیامت کا وعدہ نہیں کیا؟ آج اگر آپ ہمارے پاس کوئی اور چیز لے کر آئے ہیں تو ہم آپ کی بات ہر گز نہ مانیں گے۔'' تو بالآخر شیطان نے خود ہی بتا دیا :''میں شیطان ہوں اور تجھے گمراہ کرنے آیا تھا مگر نہ کر سکا۔'' اس کے بعد شیطان نے راہب سے کہا :''تم مجھ سے جس چیز کے بارے میں چاہو سوال کر سکتے ہو۔'' تو راہب نے جواب دیا :''میں تجھ سے کچھ نہیں پوچھنا چاہتا۔'' جب شیطان منہ پھیر کر جانے لگا تو راہب نے اس سے کہا: ''کیا تو سن رہا ہے؟'' اس نے کہا: ''ہاں!کیوں نہیں۔'' تو راہب نے اس سے پوچھا: ''مجھے بنی آدم کی ان عادتوں کے بارے میں بتا جو ان کے خلاف تیری مددگار ہیں۔'' شیطان بولا: ''وہ غصہ ہے، آدمی جب غصہ میں ہوتا ہے تو میں اسے اس طرح الٹ پلٹ کرتا ہوں جیسے بچے گیند سے کھیلتے ہیں۔''

    حضرت سیدنا جعفر بن محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں :''غصہ ہر برائی کی کنجی ہے۔''

    ایک انصاری کا قول ہے :''غصہ حماقت کی اصل ہے اور ناراضگی اس کی راہنما ہے اور جوجہالت پر راضی ہوتا ہے وہ بردباری سے محروم رہتا ہے حالانکہ بردباری زینت اور نفع کا سبب ہے جبکہ جہالت عیب اور نقصان کا سبب ہے، نیز احمق کی بات کے جواب میں خاموش رہنا سعادت ہے۔