| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
(35)۔۔۔۔۔۔صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ایک شخص کو انتہائی غصہ کی حالت میں دیکھ کر ارشاد فرمایا :میں ایک ایسا کلمہ جانتاہوں اگر یہ غُصِیلا شخص اسے پڑھ لے تو وہ اس کا غصہ ختم کردے گا اور وہ کلمہ یہ ہے:
''اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم۔''
(المسندللامام احمد بن حنبل،مسند الانصار،حدیث معاذ بن جبل،الحدیث:۲۲۱۴۷،ج۸،ص۲۵۳)
(36)۔۔۔۔۔۔(شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے پاؤں مبارک کی کسی انگلی میں پھُنسی نکل آئی تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اپنی کسی زوجہ محترمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے ذریرہ (ایک قسم کی خوشبو) لے کر اس پھنسی پر ڈالی اور یہ دعا مانگی جس سے وہ ٹھیک ہو گئی):
'' اَللّٰھُمَّ مُطْفِیئُ الْکَبِیْرِوَمُکَبِّرُ الصَّغِیْرِ اَطْفِھَا عَنِّیْ
یعنی اے اللہ عزوجل! اے بڑے کو چھوٹا اور چھوٹے کو بڑا کر دینے والے! میری اس پھُنسی کو ختم کر دے۔''
(المسندللامام احمد بن حنبل،مسند احادیث رجال من اصحاب النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم،الحدیث:۲۳۲۰۲،ج۹،ص۵۱)
(37)۔۔۔۔۔۔ دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے حضرت اُم ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ارشاد فرمایا :''یہ دعا مانگا کرو:
'' اَللّٰھُمَّ رَبِّ النَّبِیِّ مُحَمَّدِنِاغْفِرْلِیْ ذَنْبِیْ وَاَذْھِبْ غَیْظَ قَلْبِیْ وَاَجِرْنِیْ مِنْ مُّضِلَّاتِ الْفِتَنِ''
یعنی اے نبی کریم محمد صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے رب عزوجل!میرے گناہ معاف فرما دے اور میرے دل کے غصے کو دور فرما دے اور مجھے گمراہ کر دینے والے فتنوں سے محفوظ رکھ۔
(المسندللامام احمد بن حنبل،حدیث اُم سلمہ ،الحدیث:۲۶۶۳۸،ج۱۰،ص۱۹۳)
(38)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا سلیمان بن داؤد علی نبینا وعلیہما الصلوۃ والسلام نے اپنے بیٹے سے ارشاد فرمایا :''اے میرے بیٹے! غصہ کی کثرت سے بچتے رہو کیونکہ غصہ کی کثرت بُردبار شخص کے دل کو راہِ حق سے ہٹا دیتی ہے۔''
(حلیۃ الاولیاء،یحییبن ابی کثیر ،الحدیث :۳۲۵۹،ج۳،ص۸۲)
حضرت سیدنا عکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اللہ عزوجل کے فرمانِ عالیشان:
وَسَیِّدًا وَّحَصُوۡرًا
ترجمہ کنزالایمان:اور سرداراورہمیشہ کے لیے عورتوں سے بچنے والا۔(پ3، اٰل عمران:39) کی تفسیر میں فرماتے ہیں :''سَیِّدًا'' سے مراد وہ شخص ہے جس پر غصہ غالب نہ آتا ہو۔ (39)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا یحیی علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت سیدنا عیسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام سے فرمایا :''غصہ نہ کیا کرو۔'' تو حضرت سیدنا عیسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے جواب میں فرمایا :''اے میرے بھائی! میں اس بات کی استطاعت نہیں رکھتا کہ غصہ نہ کروں، میں بھی تو انسان ہی ہوں۔'' تو انہوں نے فرمایا: ''پھر مال ضائع نہ کیا کرو۔'' تو حضرت سیدنا عیسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا :''ہاں یہ ہو سکتا ہے۔''