Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
182 - 857
(20)۔۔۔۔۔۔نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :'' کیاتم جانتے ہو کہ بہادر کون ہے؟ بے شک کامل بہادر تو وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پرقابو پالے، کیا تم جانتے ہو کہ بانجھ کون ہے؟بانجھ تو وہ ہے جس کی اولاد تو ہو مگر وہ ان میں سے کسی کو آخرت کے لئے ذخیرہ نہ کرے،کیاتم جانتے ہو کہ فقیر کون ہے؟ فقیر تو وہ ہے جس کے پاس مال تو ہو مگر وہ اس میں سے آگے کچھ نہ بھیجے۔''
 (شعب الایمان، باب فی الزکاۃ ، التحریض علی صدقۃ التطوع ، الحدیث:۳۳۴۱،ج۳،ص۲۱۰)
(21)۔۔۔۔۔۔ رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ سلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جہنم کاایک دروازہ ہے جس سے وہی لوگ داخل ہوں گے جن کا غصہ اللہ عزوجل کی ناراضگی پرہی ختم ہوتا ہے۔''
(کنزالعمال،کتاب الاخلاق،الحدیث:۷۷۰۳،ج۳،ص۲۰۸)
(22)۔۔۔۔۔۔حضور نبئ پاک ، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جو اپنے غصہ کودور کرلے تو اللہ عزوجل اس سے اپنا عذاب دور فرمالیتا ہے اور جو اپنی زبان کی حفا ظت کرلے تو اللہ عزوجل اس کی پردہ پوشی فرما دیتا ہے۔''
(المعجم الاوسط، الحدیث:۱۳۲۰،ج۱،ص۳۶۲)
(23)۔۔۔۔۔۔مروی ہے ،ایک صحابیِ رسول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب،، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہِ اقدس میں نصیحت چاہتے ہوئے عرض کی: ''یارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! مجھے وصیت فرمائیے۔'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''غصہ نہ کیاکرو۔'' پھر عرض کی: ''مجھے وصیت فرمائیے۔'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے دوبارہ ارشاد فرمایا: ''غصہ نہ کیاکرو۔''
(صحیح البخاری،کتاب الأدب،باب الحذرمن الغضب ، الحدیث:۶۱۱۶،ص۵۱۶،مفہوماً)
(24)۔۔۔۔۔۔ایک روایت میں ہے :''غصہ نہ کیا کرو کیونکہ غصہ فساد ڈالتاہے۔''
(کنزالعمال،کتاب الاخلاق،الحدیث:۷۷۰۶،ج۳،ص۲۰۸)
(25)۔۔۔۔۔۔ایک اور روایت میں ہے :میں نے عرض کی: ''یارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! مجھے کسی چھوٹے سے عمل کا حکم دیجئے۔'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''غصہ نہ کیاکرو۔'' میں نے ا س عرض کو دہرایا تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے دوبارہ ارشاد فرمایا: ''غصہ نہ کیا کرو۔''
     (المعجم الاوسط، الحدیث:۷۴۹۱،ج۵،ص۳۲۷،بتغیرٍ قلیلٍ)
(26)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ عالیشان میں عرض کی: ''یارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! مجھے کوئی بات ارشاد فرمائیے اور اس میں کمی فرمائیے گا شاید میں اس میں غورو فکر کر سکوں۔'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''غصہ نہ کیا کرو۔'' میں نے دافِعِ رنج و مَلال،
    گذشتہ صفحات میں گزراکہ حسد اور کینہ غضب کے نتائج ہیں، اس کی وضاحت یہ ہے کہ جب انسان کو غصہ آئے اور وہ اسے نافذ کرنے پر قدرت نہ پانے کی وجہ سے پی لے تو وہ( غصہ) باطن کی طرف لوٹ جاتا ہے اور اس میں قرار پکڑ لیتا ہے پھر وہ کینہ اور حسد بن جاتا ہے، جس وقت انسان کے دل پراس غصے کا بوجھ اوربغض ہمیشہ کے لئے طاری ہوتاہے تو وہی اصل میں کینہ ہوتا ہے، اور اس کے نتائج یہ مرتب ہوتے ہيں کہ بندہ اپنے مغضوب (یعنی جس پر غصہ آیااس )سے حسد کرنے لگتا ہے یعنی اس سے نعمت کے زوال کی تمنا کرکے اس نعمت سے خود نفع اٹھانا چاہتا ہے، یااس کی پریشانی پر خوشی کا اظہار کرتا ہے اور اس سے جدائی اختیار کرکے تعلق توڑلیتا ہے، اور اگر وہ اس کے پاس آ جائے تو اس کی زبان اس کے بارے میں حرام کی مرتکب ہوتی ہے اوروہ اس کا مذاق اڑاتا، مسخری کرتا اور ایذا دیتا ہے، نیز اس سے اس کا حق روک لیتا ہے مثلا ًصلہ رحمی اور ظلم دور کرنا وغیرہ اور یہ تمام کام سخت گناہ اور حرام ہیں اور کینہ کاسب سے کم تر درجہ دین کو نقصان پہنچا نے والی ان آفا ت سے اِحتراز کرنا ہے۔ چنانچہ، 

(112)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''مؤمن کینہ پرور نہیں ہوتا۔''
Flag Counter