| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
(13)۔۔۔۔۔۔ صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''سختی برا شگون ہے اور نرمی برکت ہے۔''
(کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال ، الحدیث:۷۶۹۸،ج۳،ص۲۰۸)
(14)۔۔۔۔۔۔ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ ''عنقریب میں تمہیں لوگوں کے معاملات اورا ن کی عادتوں کے بارے میں بتاؤں گا، ایک شخص کو غصہ جلدی آتاہے اور جلد ہی رفع ہو جاتا ہے یہ شخص نہ تو کسی کو نقصان پہنچاتا ہے نہ ہی کسی سے نقصان اٹھاتا ہے اور ایک شخص کو دیر سے غصہ آتا ہے مگر جلد رفع ہو جاتا ہے تو یہ اس کے لئے بہتر ہے نقصان دہ نہیں، ایک شخص اپنے حق کا تقاضا کرتا ہے تو غیر کا حق ادا بھی کردیتا ہے، اس کا یہ عمل نہ اسے نقصان دیتا ہے اور نہ کسی دوسرے کو۔ اور ایک شخص اپنا حق تو طلب کرتاہے لیکن غیر کا حق ادا نہیں کرتا تو یہ اس کے لئے مضر ہے مفید نہیں۔''
(کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال ،الحدیث:۷۶۹۹،ج۳،ص۲۰۸ )
(15)۔۔۔۔۔۔ دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ ''مکمل طور پر کسی کو پچھاڑ دینا یہ ہے کہ ایک شخص کو غصہ آئے اور پھر وہ بڑھتا ہی جائے یہاں تک کہ اس کا چہرہ سرخ ہو جائے اور بال کھڑے ہوجائیں لیکن پھر اس کا غصہ ہی اس شخص کو پچھاڑ دے(یعنی وہ اپنی اس حالت پر قابو پا لے)۔''
(المسند للامام احمدبن حنبل،احادیث رجال۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۲۳۱۷۶،ج۹،ص۴۵)
(16)۔۔۔۔۔۔ سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ ''کیاتم یہ سمجھتے ہو کہ بہادری پتھر اٹھانے میں ہے حالانکہ بہادر ی تو یہ ہے کہ تم میں سے کوئی غصہ سے بھر جائے اور پھر اپنے غصہ پر قابو پالے۔''
(کتاب الزھد لابن المبارک،باب اصلاح ذات البین ، الحدیث:۷۴۰،ص۲۵۶)
(17)۔۔۔۔۔۔ شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردگارعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''کسی کو پچھاڑدینے والا بہادر نہیں ہوتا بلکہ بہادر تو وہ ہوتا ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو پا لے۔''
(صحیح البخاری ، کتاب الادب،باب الحذرمن الغضب ، الحدیث:۶۱۱۴،ص۵۱۶)
(18)۔۔۔۔۔۔ حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''لوگوں پر غالب آجانے والا بہادر نہیں بلکہ بہادر تو وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس پرقابوپا لے۔''
(کشف الخفاء، باب حرف اللام ،الحدیث:۲۱۳۸،ج۲،ص۱۵۲)بدون'' عندالغضب''
(19)۔۔۔۔۔۔ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صَلّی ا للہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''پہلوان وہ نہیں جو کسی پر غالب آجائے بلکہ پہلوان تو وہ ہے جواپنے نفس پر قابو پالے۔''
(کنزالعمال،کتاب الاخلاق،الحدیث:۷۷۱۱،ج۳،ص۲۰۹)