Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
177 - 857
(97)۔۔۔۔۔۔جبکہ ایک روایت میں ہے :''جو اِقتدا کا ارادہ رکھتا ہے (یعنی یہ چاہتا ہے کہ لوگ اس کی پیرو ی کریں) تو اس کے لئے اعلانیہ عمل افضل ہے ۔''
 (فردوس الاخبار،باب السین ، ذکر الفصول من ادوات۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث: ۳۳۸۹، ج۱،ص۴۵۳،''بتقدمٍ وتاخرٍ'')
(98)۔۔۔۔۔۔ مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اگر تم میں سے کوئی شخص کسی ایسی سخت چٹان میں کوئی عمل کرے جس کا نہ تو کوئی دروازہ ہواور نہ ہی روشندان، تب بھی اس کا عمل ظاہر ہوجائے گا اور جو ہوناہے ہو کر رہے گا۔''
     (المسندللامام احمد بن حنبل،مسند ابی سعید خدری ، الحدیث:۱۱۲۳۰،ج۴،ص۵۷)
(99)۔۔۔۔۔۔ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جو اپنے اوراللہ عزوجل کے مابین معاملے کو خوش اسلوبی سے نبھائے گا تو اللہ عزوجل اس کے اورلوگوں کے مابین معاملے میں اسے کفایت فرمائے گااور جو اپنے باطن کی اصلاح کریگا تو اللہ عزوجل اس کے ظاہر کی اصلاح فرما دے گا۔''
(کنزالعمال،کتاب الاخلاق،الحدیث:۵۲۷۳،ج۳،ص۱۳)
(100)۔۔۔۔۔۔ صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جوبھی کام بندہ چھپ کر کرتاہے تو اللہ عزوجل اس کے مطابق اس بندے پر ایک چادر ڈال دیتا ہے اگر وہ کام اچھا ہو تو وہ چادر بھی اچھی ہوتی ہے اور اگر برا ہو توچادر بھی بری ہوتی ہے۔''
  (المعجم الاوسط، الحدیث:۷۹۰۶،ج۶،ص۳۶)
(101)۔۔۔۔۔۔ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جو چھپ کر کوئی کام کرے خواہ وہ اچھا ہو یابرا، تو اللہ عزوجل اس پر اس کے مطابق ایک چادر ڈال دیتاہے جس سے اس کی پہچان ہوتی ہے۔''
(کنزالعمال،کتاب الاخلاق،الحدیث:۵۲۸۵،ج۳،ص۱۴)
(102)۔۔۔۔۔۔ دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''کیاتم جانتے ہوکہ مؤمن کون ہے؟ مؤمن وہ ہے جو اس وقت تک نہیں مرتا جب تک کہ اللہ عزوجل اس کی پسندیدہ باتوں سے اس کے کانوں کونہ بھر دے، اگر کوئی بندہ سترمکانات (یعنی ایک مکان کے اندر دوسرا پھر تیسرا یہاں تک کہ 70) کے اندر اللہ عزوجل سے ڈرے جبکہ ہر مکان کا دروازہ لوہے کا ہو تو اللہ عزوجل اسے اس کے عمل کی چادر پہنادیتا ہے یہاں تک کہ لوگ اس کاچرچا کرنے لگتے ہیں اور زیادتی سے کام لیتے ہیں۔'' (یعنی اس کی عبادت کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں)صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی کہ ''وہ (کسی کے عمل میں)زیادتی کیسے کرسکتے ہیں؟'' تو شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار باِذنِ پروردگار عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''یقینامتقی اگر اپنے پوشیدہ عمل میں اضافہ کرنے کی استطاعت رکھتاتو ضرور کرتا۔ اوریہی حال فاجر شخص کا ہے، لوگ اس کے فسق وفجور کے بارے میں باتیں کرتے ہیں اور اس کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں کیونکہ اگروہ فاجرشخص اپنی سرکشی میں اضافہ کی استطاعت
Flag Counter