(75)۔۔۔۔۔۔ مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''تعجب کی بات ہے کہ میری اُمت کے کچھ لوگ قریش کے ایک شخص کی(ہلاکت کی) خاطر بیت اللہ شریف کا قصد کریں گے جس (یعنی حضرت امام مہدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ )نے بیت اللہ شریف میں پناہ لے رکھی ہو گی لیکن جب وہ لوگ ایک بیابان میں پہنچیں گے تو انہیں زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔'' ہم (یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ) نے عرض کی:''یا رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم!راستے میں کبھی کچھ اور لوگ بھی تو قافلے کے ساتھ مل جاتے ہیں (تو کیا وہ بھی ان کے ساتھ ہلاک ہو جائیں گے؟)'' شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''ہاں !ان میں بیکس ومجبور بھی ہوں گے اورمسافر بھی، وہ سب یکبارگی ہلاک ہو جائیں گے اور پھر (قیامت کے دن)مختلف جگہوں سے ظاہر ہوں گے، اللہ عزوجل انہیں ان کی نیتوں کے مطابق اُٹھائے گا ۔''
(صحیح مسلم ،کتاب الفتن، باب الخسف بالجیش۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۷۲۴۴،ص۱۱۷۷)
(76)۔۔۔۔۔۔صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جب اللہ عزوجل کسی قوم پر عذاب نازل فرماتا ہے تو وہ عذاب اس قوم میں شامل تمام افراد کو گھیر لیتا ہے پھر انہیں ان کی نیتوں کے مطابق اٹھایاجائے گا۔''
(صحیح البخاری،کتاب الفتن، باب اذا انزل اللہ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۷۱۰۸،ص۵۹۳،''نیاتہم'' بدلہ'' اعمالہم'' )
(77)۔۔۔۔۔۔نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اپنے دین میں مخلص ہوجاؤ، تھوڑا عمل بھی تمہارے لئے کافی ہوگا۔''
(المستدرک ،کتاب الرقاق ، الحدیث۷۹۱۴،ج۵،ص۴۳۵)
(78)۔۔۔۔۔۔دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اللہ عزوجل کے لئے اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کرو کیونکہ اللہ عزوجل وہی عمل قبول فرماتا ہے جواس کے لئے اخلاص کے ساتھ کیا جاتا ہے۔''
(سنن الدارقطنی،کتاب الطہارت، باب النیۃ ،الحدیث:۱۳۰،ج۱،ص۷۳)
(79)۔۔۔۔۔۔ سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اے لوگو! اللہ عزوجل کے لئے اخلاص کے ساتھ عمل کرو کیونکہ اللہ عزوجل وہی اعمال قبول فرماتاہے جو اس کے لئے اخلاص کے ساتھ کئے جاتے ہیں او ریہ مت کہا کرو کہ میں نے یہ کام اللہ عزوجل اورر شتہ داری کی وجہ سے کیا ہے۔''
(سنن الدارقطنی،کتاب الطہار ت ، باب النیۃ ،الحدیث:۱۳۰،ج۱،ص۷۳)
(80)۔۔۔۔۔۔شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار باِذنِ پروردگار عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اللہ عزوجل وہی عمل قبول فرماتاہے جو اخلاص کے ساتھ اور اس کی رضا کے لئے کیا جاتا ہے۔''
(سنن النسآئی،کتاب الجہاد،الحدیث:۳۱۴۲،ص۲۲۹۰)