| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
(68)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''مسلمانوں کا ایک گروہ جہاد کرتے ہوئے جب ایک بیابان علاقے میں پہنچے گا تو اس گروہ کے اگلے پچھلے لوگ زمین میں دھنس جائیں گے۔'' میں نے عرض کی: ''یارسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم !ان کے اگلوں، پچھلوں کو زمین میں کیسے دھنسایاجائے گا حالانکہ ان کے ساتھ ان کے مویشی اور ایسے لوگ بھی ہوں گے جو ان میں سے نہیں ہوں گے ؟'' دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''ان کے اولین وآخرین کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا پھر انہیں ان کی نیتوں پر اُٹھایا جائے گا۔''
(صحیح البخاری ،کتاب البیوع، باب ماذکر فی الاسواق،الحدیث:۲۱۱۸،ص۱۶۵)
(69)۔۔۔۔۔۔رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ اقدس میں ایسے لوگوں کے بارے میں دریافت کیا گیا جو بہادری جتلانے، حمیت اور ریاکاری کے لئے جہاد کرتے ہیں کہ ان میں سے کون راہِ خدا عزوجل کا مجاہد ہے؟'' تو خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''جو اللہ عزوجل کے دین کی سر بلندی کے لئے لڑے وہ مجاہد فی سبیل اللہ ہے۔'' ایک نسخہ میں ہے :''وہی راہ خدا عزوجل کا مجاہد ہے۔''
(صحیح مسلم ،کتاب الامارۃ ،باب من قاتل لتکون کلمۃ اللہ ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث :۴۹۲۰،ص۱۰۱۸)
(70)۔۔۔۔۔۔سیِّدُ المُبلِّغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''مؤمن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے جبکہ منافق کا عمل اس کی نیت سے بہتر ہے اور چونکہ ہر ایک اپنی نیت کے مطابق عمل کرتا ہے لہٰذا مؤمن جب کوئی عمل کرتا ہے تو اس کا دل روشن ہو جاتا ہے ۔''
(المعجم الکبیر،الحدیث:۵۹۴۲،ج۶،ص۱۸۵)
(71)۔۔۔۔۔۔ شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''سچی نیت سب سے افضل عمل ہے۔''
(جامع الاحادیث،قسم الاقوال،الحدیث:۳۵۵۴،ج۲،ص۱۹)
(72)۔۔۔۔۔۔ مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اللہ عزوجل آخرت کی نیت پر دنیا عطا فرما دیتا ہے لیکن دنیا کی نیت پر آخرت عطا فرمانے سے انکار کر دیتا ہے۔''
(کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال ،حرف الزاي، باب الزھد،الحدیث:۶۰۵۳،ج۳،ص۷۵)
(73)۔۔۔۔۔۔ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اچھی نیت بندے کو جنت میں داخل کردیتی ہے۔''
(کنزالعمال،کتاب الاخلاق،قسم الاقوال ،حرف النون باب النیۃ،الحدیث:۷۲۴۵،ج۳،ص۱۶۹)
(74)۔۔۔۔۔۔ مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اچھی نیت عرش سے چمٹ جاتی ہے پس جب کوئی بندہ اپنی نیت کوسچا کر دیتا (یعنی اپنی نیت کے مطابق عمل کرتا)ہے تو عرش ہلنے لگ جاتا ہے، پھر اس بندے کو بخش