جب ہم نے اللہ عزوجل کے فضل، اس کی تائید، مدد واعانت اور توفیق سے اس بدترین کبیرہ گناہ اور اس کے ان متعلقات کے بارے میں گفتگو مکمل کر لی جن کی مخلوق کو حاجت پیش آتی ہے اور کتاب کے موضوع کے اعتبار سے اس پر تفصیلی کلام کر لیا اگرچہ ریا کاری اور اس کے توابع کے بیان میں خصوصًا ''اِحْیَاءُ عُلُوْمِ الدِّیْن'' میں علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے کلام کی بنسبت ہمارا کلام نہایت ہی مختصر ہے اب ہم اپنے کلا م کا اختتام اخلاص کی مدح، مخلصین کے ثواب اور ان کے لئے اللہ عزوجل کی تیار کردہ نعمتوں پر دلالت کرنے والی چند آیات اور احادیث مبارکہ سے کرنا چاہتے ہیں تاکہ یہ مخلوق کے لئے اخلاص کو اپنانے اور ریاکاری سے دو ری اختیار کرنے کا سبب بن سکے کیونکہ اشیاء کی کامل معرفت ان کی اضداد ہی سے حاصل ہوتی ہے۔ اللہ عزوجل فرماتاہے:
وَ مَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللہَ مُخْلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ۬ۙ حُنَفَآءَ وَ یُقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ یُؤْتُوا الزَّکٰوۃَ وَ ذٰلِکَ دِیۡنُ الْقَیِّمَۃِ ؕ﴿5﴾
ترجمۂ کنز الایمان: اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہواکہ اللہ کی بند گی کریں نرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰ ۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔(پ0 3، البینۃ:5)
اور فرماتاہے
اِنۡ تُخْفُوۡا مَا فِیۡ صُدُوۡرِکُمْ اَوْ تُبْدُوۡہُ یَعْلَمْہُ اللہُ ؕ
ترجمۂ کنز الایمان:اگر تم اپنے جی کی بات چھپاؤ یا ظاہر کرو اللہ کو سب معلوم ہے۔ (پ:3، اٰل عمر ان:29)
(67)۔۔۔۔۔۔حضور نبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی وہ نیت کرے تو جس کی ہجرت اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی طرف ہوگی تو اس کی ہجرت اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ہی کے لئے ہے اور جس کی ہجرت دنیا پانے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لئے ہوگی تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔''
(صحیح البخاری ، کتاب الایمان، باب ماجاء ان الاعمال۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۵۴،ص۷)