Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
171 - 857
قیامت کے دن انسان نیکیوں کے پلڑے کو بھاری کرنے کے لئے ایک ایک عبادت کا محتاج ہو گا ورنہ جہنم میں جاپڑے گا۔ جو اللہ عزوجل کو نارا ض کر کے مخلوق کی رضا چاہتا ہے، اللہ عزوجل اس پر خود بھی ناراض ہوتا ہے اور لوگوں کو بھی اس پر ناراض کر دیتا ہے کیونکہ لوگوں کو راضی رکھنا ایک ایسی چیز ہے جو حاصل نہیں ہو سکتی، ہوسکتاہے وہ کسی ایک قوم کو راضی کرے تو دوسری قوم ناراض ہو جائے، پھر لوگوں کی طرف سے مدح سے کوئی نفع نہ ہونے کے باوجود اللہ عزوجل کی طر ف سے مذمت اور غضب کے مقابلے میں لوگو ں کی طرف سے تعریف کو ترجیح دینے میں اس کی کون سی غرض پوشیدہ ہے؟ نہ تو اسے اس تعریف سے نفع حاصل ہوسکتا ہے اور نہ ہی وہ اس سے کوئی نقصان دور کر سکتی ہے کیونکہ نفع دینے اور نقصان سے بچانے والا اللہ عزوجل ہی ہے، اسی کا حق ہے کہ صرف اسی کا قصد کیا جائے کیونکہ وہی دلوں کو منع اور عطا کے ساتھ مسخر کرنے والا ہے اور اس کے سوا کوئی رازق، معطی، نافع اور ضارّ نہیں۔حقیقت یہی ہے کہ مخلوق سے طمع رکھنے والاانسان ذلت ورسوائی یا احسان جتلائے جانے کے بوجھ واہانت سے محفوظ نہیں رہ سکتا لہٰذا وہ جھوٹی اور فاسداُمید کے بدلے میں اللہ عزوجل کے اِنعامات کیسے چھوڑ دیتاہے؟ ایسا شخص کبھی تواپنا مقصد پا لیتاہے اور کبھی ناکام رہتا ہے، جیسے اگر لوگ اس کے دل کی ریا پر مطلع ہوجائیں تو اسے دھتکار دیں، اس پر ناراض ہوں اور اس کی مذمت کرتے ہوئے اسے محروم کر دیں۔ لہٰذا جوان باتوں کو بصیرت کی نگاہ سے دیکھے گا لوگوں میں اس کی رغبت ختم ہو جائے گی اور وہ سچائی کو قبول کرلے گا۔
عملی دوا:
    وہ دوا یہ ہے کہ بندہ عبادت کو اس طرح چھپانے کی عادت ڈالے جیسے اپنے گناہ چھپانے کی عادت ڈالتاہے یہا ں تک کہ اس کادل اللہ عزوجل کے علم اور اس کی بصيرت پر قناعت کرنے لگے اور اس کا نفس غیر اللہ  کے اس عمل کو جان لینے کے سلسلہ میں اس سے نزاع نہ کرے اور اسی طرح عمل کو چھپانے میں تکلف سے کام لے اگرچہ ابتداء ً  اس پریہ کام گراں گزرے گا مگر جو ایک مدت تک اس پر بتکلف صبر کرے اس سے اس کی گرانی دور ہو جائے گی اور اللہ عزوجل اپنے فضل سے اس معاملہ میں ا س کی مدد فرمائے گا اور یہی مدد اس کی نجات کا سبب بن جائے گی کیونکہ
اِنَّ اللہَ لَایُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوۡا مَابِاَنْفُسِہِمْ ؕ
ترجمۂ کنز الایمان:بیشک اللہ کسی قوم سے اپنی نعمت نہیں بدلتاجب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدل دیں۔(پ13، الرعد:11)

اس سلسلہ میں جب بندے کی جانب سے مجاہدہ اور رب کریم عزوجل کے در پر دائمی حاضری ہو گی تو اللہ عزوجل کی جانب سے
Flag Counter