Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
170 - 857
تنبیہ 6:
    مذکورہ بالا آیات، احادیثِ مبارکہ اور ائمہ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے کلام سے آپ پر ظاہر ہوچکا ہے کہ ریاکاری اعمال کو برباد کرنے والی اور اللہ عزوجل کی ناراضگی اور لعنت ودوری کا سبب ہے، نیز یہ مہلک کبیرہ گناہوں میں سے ایک ہے اور یہ وہ اوصاف ہیں جن کے ازالہ کے لئے تو فیق دیئے گئے ہر شخص کو مجاہدے کے ذریعے کوشش کرنی چاہے اوراس معاملہ میں خوب مشقت اٹھانی چاہے کیونکہ اس سے وہی شخص محفوظ رہ سکتاہے جسے اغراض اور مخلوق کے خیال سے پاک خالص قلبِ سیلم عطا ہوا اور جو ہر وقت رب العالمین عزوجل کی تجلیات کے مشاہدہ میں مستغرق رہتا ہو، حالانکہ ایسے لوگ بہت ہی کم ہیں جبکہ مخلوق کی غا لب اکثریت ان آفات میں مبتلا ہے کیونکہ بچے کو ضعیف العقل، مخلوق کی طرف نظر رکھنے والا اور کثیر الطمع بنا کر پیدا کیا گیا ہے، لہٰذا جب وہ لوگوں کو دوسروں کے لئے بناوٹی عمل کرتے دیکھتا ہے تو اس پر بھی بناوٹی عمل کی محبت غالب ہو جاتی ہے اور پھر یہی بات اس کے ذہن میں پختہ ہوجاتی ہے، پھر جب اس کی عقل کامل ہوتی ہے اور اسے حق کی پیروی کی توفیق ملتی ہے تو وہ اسے مہلک مرض سمجھنے لگتا ہے او ر ایسی دوا کا محتاج ہوتا ہے جو ا س مرض کو زائل کردے اور تعریف کی لذت، جاہ کی تمنا اور لوگوں کے اموال پر نظر رکھنے جیسے فاسد خیالات کو ختم کر کے اس کی جڑیں کا ٹ دے۔
ریا کا علاج
    ریا کاری کاعلاج دو قسم کی دواؤں سے ہو سکتا ہے:(۱)علمی دوا اور(۲) عملی دوا
علمی دوا:
    وہ نافع دوا یہ ہے کہ وہ ریاکاری سے منہ پھیر لے کیونکہ یہ نقصان دہ اور دل کی اصلاح کھو دینے والی، دنیامیں توفیق اور آخرت میں بلند درجات سے محروم کر دینے والی اور سخت عذاب، شدید ناراضگی اور ظاہری رسوائی کا باعث بننے والی ہے کہ جب ریاکارکو لوگوں کے سامنے بلا کر کہا جائے گا :''اے فاجر! اے دھوکے باز! اے ریاکار! کیا تجھے حیانہ آئی جب تُو نے اللہ عزوجل کی اطاعت کے بدلے دنیا کا ساز وسامان خریدا؟ تُو نے بندوں کے دلوں پر نظر رکھی، اللہ عزوجل کی نظرِرحمت اور اس کی اطاعت کا مذاق اڑایا، اللہ عزوجل سے بغض رکھا اور اس کے بندوں سے محبت کی، لوگوں کے لئے ایسی چیزوں سے آراستہ ہوا جو اللہ عزوجل کے نزدیک بری تھیں اور اللہ عزوجل سے دوری اختیار کرکے لوگو ں کی قربت پائی۔'' 

    اگر ریا کی برائی فقط یہ ہوتی کہ اس کی وجہ سے کوئی ایک عبادت ہی برباد ہوتی تب بھی اس کا نقصان کافی تھا کیونکہ
Flag Counter