Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
167 - 857
ہے کہ یہ انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام اوران کے (علومِ نبوت کے)وارثین کامقام ہے جو کہ کامل ترین اوصاف سے خاص ہیں، اور اس کی دوسری وجہ یہ ہے کیونکہ اس کا نفع متعدی ہوتا ہے۔ جس کی دلیل یہ ہے:

(66)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جس نے کوئی اچھا طریقہ جاری کیا تو اسے نہ صرف اس (اچھے کام)کا اجر ملے گا بلکہ قیامت تک اس پر عمل کرنے والوں کا اجر بھی ملے گا''
(سنن ابن ماجہ ، ابواب السنۃ ،باب من سن سنۃ ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۲۰۳،ص۲۴۸۹،بدون ''یوم القیامۃ'')
    اگر مذکورہ شرائط میں سے کوئی شرط مفقود ہو تو عمل چھپانا افضل ہے۔اس تفصیل کو ان لوگوں کے قول پر محمول کیا جائے گا جنہوں نے عمل چھپانے کو مطلقاً افضل بیان کیا ہے، البتہ عمل کے بےجا اظہار کا مرتبہ علماء اور عبادت گزاروں کے قدم پھسلانے والا ہے کیونکہ یہ حضرات اظہار میں قوی لوگوں سے مشابہت اختیار کرتے ہیں حالانکہ ان کے دل اخلاص میں پختہ نہیں ہوتے لہٰذا ریاکاری کی وجہ سے ان کے اَجر برباد ہو جاتے ہیں اور یہ بات ہرایک نہیں سمجھ پاتا۔

    اس میں حق کی علامت یہ ہے کہ جو شخص بذاتِ خود کوئی عمل بجا لائے یہ جانتے ہوئے کہ اگر اس کے ہم عصرلوگوں میں سے کوئی دوسرا شخص ایسا کرتا تو بھی اسے کوئی فرق نہ پڑتا تو وہ مخلص ہے اور اگر اپنے نفس کو ایسا نہیں سمجھتا تو ریاکار ہے کیونکہ اگر اسے مخلوق کی جانب توجہ کا خیال نہ ہوتا تو وہ خود کو غیر سے بے نیاز سمجھتے ہو ئے اپنے آپ کو تر جیح نہ دیتا لہٰذا بندے کو چاہے کہ نفس کے دھوکے سے ڈرے کیونکہ یہ بہت بڑا دھوکے باز ہے اورشیطان تو پہلے ہی گھات لگائے بیٹھاہے، چونکہ دل پر حُبِّ جاہ غالب ہوتی ہے لہٰذا ظاہری اعمال آفات وخطرات سے بہت کم سلامت رہتے ہیں جبکہ سلامتی تو اعمال کو پوشیدہ رکھنے میں ہی ہے، عمل سے فارغ ہونے کے بعد اس کے بارے میں گفتگو کرنا بھی عمل کا اظہار ہی ہے بلکہ یہ اس اعتبار سے زیادہ خطرناک ہے کہ بعض اوقات بندہ زبان سے زیادتی اور مبالغہ کر بیٹھتا ہے حالانکہ نفس کو تو دعوی کے اظہار ہی سے لذت حاصل ہوتی ہے، اور اس میں اس اعتبار سے خطرہ کم ہے کہ عمل سے فارغ ہونے کے بعدریا سے پچھلا خالص عمل برباد نہیں ہوتا۔ 

    یاد رکھئے! بعض لوگ ریا کے خوف سے عمل چھوڑ دیتے ہیں یہ کوئی اچھی بات نہیں کیونکہ اعمال دو طرح کے ہوتے ہیں یا تو ان کا تعلق صرف عامل کی ذات سے ہوتا ہے کسی غیر سے نہیں ہوتا، بلکہ ان کی اپنی ذات میں بھی کوئی لذت نہیں ہوتی جیسے روزہ، نماز اور حج وغیرہ، اب اگر ایسے عمل کی ابتداء کا باعث صرف لوگوں کو دکھانا ہو تو یہ خالص گناہ ہے لہٰذا اسے چھوڑنا واجب ہے اوراسی کیفیت اور حالت پر رہتے ہوئے اس کے لئے کوئی رخصت نہیں اور اگر عمل کا باعث تو اللہ
Flag Counter